کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ میرے والدصاحب مسمیٰ محمد اسلم کا انتقال ہوگیا، بوقتِ انتقال ورثاء میں چار بیٹے اور سات بیٹیاں موجود تھیں، والدہ کا انتقال پہلے ہی ہو گیا تھا، ہم بہنیں والد صاحب کی ناراضگی اور تنگی کی وجہ سے والد صاحب سے الگ رہائش پذیر تھیں، اب والد صاحب کے انتقال کے بعد والد صاحب کے متروکہ مکان میں ہم بہنوں کا کتنا حصہ بنتا ہےَ؟ اور مکان میں جو موجود دکان کا کرایہ آتا ہے اس میں بھی ہم بہنوں کا حصہ ہے کہ نہیں؟ تفصیل سے جواب عنایت فرمائیں!
صورتِ مسئولہ میں سائلہ اور اُسکی بہنیں اگرچہ والدِ مرحوم سے الگ رہائش پذیر تھیں تب بھی والدِ مرحوم کے متروکہ مکان اور دکان سمیت تمام ترکےمیں اپنے حصوں کے بقدر حصہ دار ہونگی، البتہ اگر بہنیں فی الحال متروکہ دکان میں سے اپنا شرعی حصہ لینے کے بجائے اسکے کرایہ پر رہنے پر رضامند ہوں تو ایسی صورت میں وہ حاصل شدہ کرایہ میں اپنےحصوں کے بقدر حقدار ہونگی۔
اسکے بعد واضح ہوکہ سائلہ کے والدِمرحوم کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق اُنکے موجودہ ورثاء میں اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقتِ ِانتقال مذکور مکان سمیت جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال و جائیداد، سونا، چاندی، زیورات، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے، اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں، اسکے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کوئی واجب الادا قرض ہو تو اس کی ادائیگی کریں، اسکے بعد دیکھیں کہ اگرمرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3) حصے کی حد تک اس پر عمل کریں، اسکے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل پندرہ (15) حصے بنائے جائیں، جن میں سے مرحوم کےہر ایک بیٹے کو دو (2) حصے، جبکہ ہر ایک بیٹی کو ایک (1) حصہ دیا جائے -
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0