السلام علیکم !
ہمارے کچھ ورکر ہیں جو انتقال کرچکے ہیں ، انکی انشورنس ( ڈیتھ کلیم ) اور گریجویٹی کی رقم ہمارے پاس موجود ہے ، اسے تقسیم کرناہے جس کے بارے میں ہمارے کچھ سوالات ہیں جن کے جوابات چاہئیے۔
1ـ -ایک عورت کا انتقال ہوگیاہے اس کے والدین یعنی ماں باپ ، دادا ، دادی ، اورنانی کا مرحومہ سےپہلے انتقال ہوگیا ہے ، وہ طلاق یافتہ تھی اور اولاد بھی کوئی نہیں ہے ، لیکن مرحومہ کے پانچ بھائی بہن ہیں یعنی ایک بھائی اور چاربہنیں حیات ہیں ، تو اس صورت میں مرحومہ کی رقم کس طرح تقسیم کی جائےگی؟
سائل کے ہاں کام کرنے والے ملازمین کی تنخواہوں میں سے کٹوتی کرکے ادارے نے جتنی رقم انشورنس کمپنی میں جمع کروائی ہے ،وہ تو ان مرحوم ملازمین کا ترکہ ہے، جوکہ انکے پسماندگان کے درمیان حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم ہوگی ، البتہ انشورنس کمپنی کی طرف سے اس پر جو اضافی رقم ملے گی وہ اگر مرحومین کے پسماندگان براہ راست انشورنس کمپنی سے وصول کر رہے ہوں، تو اس اضافی رقم کو اپنے استعمال میں لانے کے بجائے صدقہ کر دینا چاہیئے، البتہ اگر یہ اضافی رقم ادارے کی طرف سے انہیں دی جارہی ہو تو اس رقم کو اپنے استعمال میں لانے کی گنجائش ہے، جبکہ گریجویٹی کی رقم کے اگر ملازمین اپنی زندگی میں حقدار نہ بنے ہوں، بلکہ ملازمین کی وفات کے بعد ادارے کی طرف سے ابتداءً ان کے پسماندگان کو دی جارہی ہو تو ایسی صورت میں یہ ان ملازمین کا ترکہ نہیں بلکہ ادارے کی طرف سے مرحوم کے پسماندگان کے لئے تبرع واحسان ہوگا، اس لئے ادارہ مرحوم کے پسماندگان میں سے جس فرد کو نامزد کردے وہی اس کا حقدار ہوگا، دیگر ورثاء کا اس میں کوئی حق نہ ہوگا۔اس کے بعد واضح ہوکہ مرحومہ عورت کا ترکہ اصول میراث کے مطابق اسکے ورثاء میں اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحومہ نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ وغیرمنقولہ مال وجائیداد، سونا، چاند، نقدرقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو سازوسامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے وہ سارا کا سارا مرحومہ کا ترکہ ہے، جس میں سے حقوقِ مقدمہ علی المیراث( کفن دفن کےمتوسط مصارف،واجب الادا قرضوں کی ادائیگی، اور جائز وصیت پر ایک تہائی (1/3)حصے کی حدتک عمل) کے بعد جو کچھ بچ جائے، اس کے کل چھ(6)حصے بنائےجائیں، جن میں سے بھائی کو دو(2)حصے، اور ہر بہن کو ایک(1)حصہ دے دیا جائے -
کما قال اللہ تعالیٰ: یٰۤایھا الذین اٰمنوا اتقوا االلہ وذروا مابقی من الربۤوا ان کنتم مؤمنین۔ الآیۃ (سورۃ البقرۃ/278)۔
وفی الھدایۃ: الھبۃ عقد مشروع لقولہ ﷺ "تھادوا تحابوا" وعلی ذلک انعقد الاجماع وتصح بالایجاب والقبول والقبض، اما الایجاب والقبول فلانہ عقد والعقد ینعقد بالایجاب والقبول، والقبض لابدمنہ لثبوت الملک الخ (ج3 صـ285 کتاب الھبۃ ط: رحمانیۃ)۔
وفی الدرالمختار: (و) حکمھا (انھا لاتبطل بالشروط الفاسدۃ) فھبۃ عبد علی ان یعتقہ تصح ویبطل الشرط الخ (ج5 صـ288 کتاب الھبۃ ط: ایچ ایم سعید)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2