میرے نانا مسمیٰ شاہ حسین کو ساتھ ملاکرپانچ بھائی تھے ، خان بابا ،محمدحسین،محمدحسن، جن میں ایک بھائی مسمیٰ حسن خان ان کے بعد فوت ہوا ، اور تین بھائی ان سے پہلے فوت ہوچکے تھے ، نانا کی پانچ بیٹیاں ہیں،بخت شیرینہ،تاج مینہ، زری روجان، رامشہ،ممتاز بیگم“ اور ایک بیٹا ”اختر زمان“ جو شادی شدہ تھا ، جوکہ نانا کی وفات سے تین سال قبل فوت ہوا ، نانا کی دو پوتیاں ہیں، ”لعل مانیہ اور رومانیہ“ جبکہ ”بہو“ بھی فوت ہوچکی ہے، اب میراث کی تقسیم کیسے کی جائے؟قرآن و حدیث کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔جزاک اللّہ خیراً
نوٹ: نانا کے والدین ان کی وفات سے پہلے فوت ہوئے تھے ، اور نانا کی بیوی بھی ان سے پہلے فوت ہوئی تھی ، نانا کی بہن کوئی نہیں ہے ، جبکہ نانا کا بھائی جو نانا کے بعد فوت ہوا ان کی بیوہ نانا کے بھائی کے بعد فوت ہوئی، ورثاء میں سات بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں ، جبکہ مرحومہ کے والدین بھی مرحومہ سے قبل انتقال کر گئے تھے ، اور ناناکا بیٹا جو نانا کی وفات سے قبل فوت ہوا تھا ، اس نے مملوکہ نہیں چھوڑا تھا ، مزید یہ کہ نانا نے کوئی وصیت بھی نہیں کی , جبکہ مرحومہ اور اسکے شوہر مرحوم کے درمیان انکے کسی بیٹے بیٹی کا انتقال نہیں ہوا
واضح ہو کہ مورث کی حیات میں اگر کسی وارث کا انتقال ہو جائے تو دیگر قریبی ورثاء کی موجودگی میں وہ وارث اور اس کے پسماندگان، مورث کی وراثت میں شرعاً حصہ دار نہیں ہوتے ، بلکہ محروم ہو جاتے ہیں ، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں سائل کے نانا مرحوم کے جن بھائیوں اور بیٹے کا انتقال مرحوم کی حیات میں ہوا ہے ، وہ اور انکی اولاد شرعاً مرحوم کے ترکے میں حصہ دار نہ ہو گی ، تاہم اگر ورثاء اپنی مرضی سے مرحوم کی پوتیوں اور دیگر بھائیوں کی اولادوں کو کچھ دینا چاہیں ، تو اسکا انہیں اختیار ہے ، البتہ ایسا کرنا ان پر لازم نہیں ہے۔
اسکے بعد واضح ہو کہ سائل کے نانا مرحوم کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق اسکے مذکور ورثاء میں اسطرح تقسیم کیا جائے گا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال اپنی ذاتی ملکیت میں جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا ،چاندی ، زیورات،نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھر یلو ساز و سامان چھوڑا ہے، اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اسکے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کوئی واجب الادا قرض ہو تو اس کی ادائیگی کریں، اُس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی(3/ 1) حصے کی حد تک اُس پر عمل کریں، اُس کے بعد جو کچھ بچ جائے اسکے کل دوہزار ایک سو ساٹھ(2160 ) حصے بنائے جائیں ، جن میں سے مرحوم کی ہر ایک بیٹی کو دوسواٹھاسی(288)حصے، ہر ایک بھتیجے(مرحوم حسن خان کے بیٹوں) کو اسّی(80) حصے اور ہر ایک بھتیجی (مرحوم حسن خان کی بیٹیوں)کو چالیس(40)حصے دیے جائیں -
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2