کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہم پانچ بھائی ہیں ، جس وقت والدین حیات تھے،میں دکان میں کام کرتا تھا ، پھر میں نے وہ دکان ایک شریک کے ساتھ شرکت پر خریدنے کا ارادہ کیا ، تو بھائیوں سے اس مد میں کچھ رقم کا مطالبہ کیا ، لیکن انہوں نے یہ کہہ کر رقم دینے سے انکار کر دیا کہ ابھی ہمارے پاس کچھ نہیں ہے ، پھر میں نے قرض وغیرہ لے کر شرکت پر یہ دکان خریدی ، گزرتے وقت کے ساتھ میں نے شرکت ختم کرنے کا ارادہ کیا ، تو بھائیوں سے پھر رقم کا مطالبہ کیا تاکہ شریک کو فارغ کر دوں ، لیکن اس وقت بھی بھائیوں نے پیسے نہ ہونے کا کہہ کر ، دینے سے منع کر دیا ، اور مزید قرض لے کر وہ مکمل دکان میں نے خرید لی ، اب میرے والدین کا بھی انتقال ہو چکا ہے اور بڑا بھائی بھی ہم سے الگ ہو گیا ہے ، پوچھنا یہ ہے کہ میری اس دکان میں بھائیوں کا کچھ حق بنتا ہے یا نہیں ؟ نیز بھائیوں کی شادی پر میں نے جو خرچہ کیا تھا ، اب آیا میں اس کا مطالبہ کر سکتا ہوں یا نہیں ؟شریعت کی روشنی میں رہنمائی درکار ہے۔
نوٹ : مذکور دکان میں والد اور دیگر بھائیوں کی کوئی رقم شامل نہیں ہے ، بلکہ میں نے خود قرض وغیرہ لے کر یہ دکان خریدی ہے ۔
سوال میں ذکر کرده بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو اس میں کسی قسم کی کمی بیشی سے کام نہ لیا گیا ہو اس طور پر کہ مذکور دکان میں والدِ مرحوم اور دیگر بھائیوں کی کوئی رقم شامل نہ ہو ، بلکہ سائل نے ذاتی حیثیت سے قرض لیکر اپنے لئے مذکور دکان خریدی ہو تو شرعاً مذکور دکان انہی کی ملکیت ہے ، اس میں سائل کے بہن بھائیوں کا شرعاً کوئی حصہ نہیں، جبکہ سائل نے بھائیوں کی شادی پر جو اخراجات کیے ہیں ، اگر ان کے متعلق سائل نے قرض یا واپسی کی صراحت نہ کی ہو ،تو ایسی صورت میں یہ سائل کی طرف سے تبرع اور احسان شمار ہو گا ، چنانچہ اب سائل کو ان اخراجات کے مطالبے کا حق حاصل نہ ہو گا ، تاہم سائل کے بھائی اگر اپنی مرضی سے سائل کو شادی کے اخراجات کے بقدر رقم دینا چاہیں تو اسکا انہیں اختیار ہے۔
کما في ردالمحتار : لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي اھ (4/ 61)۔
و في تنقيح الفتاوى الحامدية : المتبرع لايرجع بما تبرع به علی غیره اھ(2/ 391)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2