کیافرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے والد نے اپنی زندگی میں تین کنال زمین خریدی اور ہم تین بھائیوں کے نام کردی ،جس میں زمین کی اور ملکیت کی کوئی تعیین نہیں کی تھی اور نہ ہی زندگی میں ہمیں اس زمین کو خریدنے اور بیچنے کا اختیار تھا ،اس وقت تین کنال زمین ڈیڑھ لاکھ کی آئی تھی ، ہر کنال چونکہ پچاس ہزار کی پڑی تھی ،اس لئے والد صاحب نے ہماری ایک بہن یعنی اپنی بیٹی کو زمین کے بجائے پچاس ہزار نقد دیکر اس کا حصہ ختم کردیا ، پھر والد صاحب نے اپنی مرضی سے اس تین کنال زمین پر ایک گھر بنوایا اور پھر والد صاحب کا انتقال ہوگیا ، اس وقت ان کے ورثاء میں بیوہ ،تین بیٹے ،سراج احمد ،عبدالستار ،سعید ،اور ایک بیٹی شمیم اختر حیات تھے ،اس کے بعد ہم بھائیوں نے وہ تین کنال والا گھر فروخت کردیا ،اس دوران ہی بڑے بھائی سراج احمد کا انتقال ہوگیا ،جس کے ورثاء میں بیوہ ، بیٹی،دوبھائی (عبدالستار ، سعید )اور ایک بہن موجود ہیں ، پھر مکان ہم نے فروخت کیا تو اس میں سے ہر بھائی کو چھتیس لاکھ روپے حصہ آیا ،اور بھائی سعید کو ان کا حصہ دے دیا ، جبکہ بڑے بھائی سراج مرحوم کی بیٹی اور بیوہ کی اجازت سے اپنے اور سراج مرحوم کے حصہ کی رقم کے ساتھ کچھ مشترکہ رقم ملا کر ایک گھر خرید لیا , جس میں سراج مرحوم کی فیملی رہتی ہے اور میں رہائش پذیر ہوں ، اس گھر میں شرعی طور پر کس کا کتنا حصہ ہے ؟ رہنمائی فرماکر ماجور ہوں ، جبکہ بہن کو والد نے چونکہ ہم بھائیوں کی زمین کی رقم کے بقدر حصہ دے دیا تھا ، وہ پھر حصہ مانگ رہی ہے، اس کا کیا حکم ہے۔
سائل کے والد نے مذکور زمین سائل اور اس کے دیگر بھائیوں کے فقط نام کی ہو ، ہر ایک کا حصہ الگ اور متعین کرکے اس پر ان کو باضابطہ مالکانہ قبضہ نہ دیا ہو تو فقط نام کردینے سے سائل اور اس کے دیگر بھائی مذکور زمین کے مالک نہیں بنے ، بلکہ وہ زمین اور اس پر کی گئی تعمیر سائل کے والد مرحوم کی ملکیت ہی رہی، جو والد کے انتقال کی صورت میں تمام ورثاء کے درمیان حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم کرنا لازم ہے ، جبکہ سائل کے والد نے اپنی بیٹی (سائل کی بہن ) کو زمین میں سے حصہ دینے کے بجائے اس کے حصہ کے بقدر جو رقم دی ہےسائل کی بہن اس رقم کی مالک بن چکی ہے ، اوریہ تقسیمِ وراثت نہیں بلکہ والد کی طرف سے گفٹ کہلائے گا ،لہذا اس گفٹ کی وجہ سے سائل کی بہن اپنے شرعی حصۂ میراث سے محروم نہ ہوگی ، بلکہ دیگر ورثاء کی طرح وہ بھی اپنے شرعی حصہ کی حقدار ہوگی ، تاہم جب والد مرحوم نے زندگی میں سائل کی بہن کو جائیداد میں سے حصہ دے دیا تھا اور بھائیوں کو الگ سے کچھ نہیں ملا ، تو اگر سائل کی کچھ تھوڑا بہت لے کر باقی ترکہ سے بھائیوں کے حق میں دستبردار ہوجائے تو یہ اخلاقی طور پر مناسب ہوگا ، البتہ ایسا کرنا اس پر لازم نہیں -
جبکہ مذکور تقسیم میں چونکہ بہن کا حصہ شامل نہیں کیا گیا تھا ، لہذا مذکور تقسیم شرعاً معتبر نہیں ،اس لئے از سر نو ترکہ کی تقسیم ہو گی ، تاہم ترکہ کا مکان فروخت کرکے حاصل شدہ رقم کے ساتھ مزید رقم ملا کر جو مکان خریدا گیا ہے تو وہ مکان بھی ترکہ کی حد تک ورثاء کے درمیان مشترک ہوگا ،لہذا جن ورثاء نے اس میں رقم ملائی ہے اس رقم کی حد تک مکان میں ان کے لگائے ہوئے سرمایہ کے تناسب سے ان کے درمیان مشترک ہے ، البتہ ترکہ کی رقم کے تناسب سے مذکور مکان تمام ورثاء کے میں حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم ہوگا۔
اس کے بعد واضح ہوکہ سائل کے والد مرحوم کا ترکہ اصول میراث کے مطابق اس کے مذکور ورثاء میں اس طرح تقسیم ہوگا ، کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال و جائیداد ،سوناچاندی ،زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ،وہ سب مرحوم کا ترکہ ہے جس میں سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اسکے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض یا بیوہ کا حق مہر واجب الادا ہو تو وہ ادا کریں ،اسکے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (3/ 1)حصے کی حد تک اس پر عمل کریں ، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اسکے کل ایک سو چالیس (140) حصے بنائے جائیں جن میں سے مرحوم کے ہر بیٹے کو چھیالیس (46) حصے ، اور ہر بیٹی کو تیئس (23) حصے ، مرحوم کی بہو کو پانچ (5) حصے ،اور پوتی کو بیس (20) حصے کےدیے جائیں -
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2