السلام علیکم ! میرا نام دانیال ہے ، میرے والد (نوید) کا انتقال سن 2000ء میں ہوا تھا ، والد کی جائیداد میں ایک دکان تھی ، انتقال کے وقت میت کے مندرجہ ذیل ورثاءحیات تھے ، واضح رہے کہ تمام ورثاء کا رشتہ میت کے حوالے سے درج ذیل ہے : 1- باپ (مرسلین) ، 2- ایک بیوہ (فوزیہ) ، 3- دو بیٹے (راحیل، دانیال) ، 4- ایک بیٹی (یمنیٰ) ، 5- چھ بھائی ، 6- پانچ بہنیں ، میت کے انتقال کے وقت تینوں اولاد نابالغ تھیں اور میت کی بیوہ نے دوسری شادی نہیں کی ، میت کے انتقال کے بعد ورثاء نے دکان نہیں بیچی اور دکان کو کرائے پر دے کر اُس کے ماہوار کرائے سے بیوہ اور بچوں کا گزر بسر ہوتا رہا اور آج تک ہو رہا ہے ، سن 2011ء میں میت کے ایک بھائی کا اور 2013ء میں میت کے والد کا انتقال ہو گیا ، اِس پورے عرصے کے دوران کوئی وارث بیوہ ، بچوں سے میت (نوید) کے ترکہ کے بارے میں کوئی گفتگو نہیں کرتا ، میت کے بیوہ ، بچوں کو اِس بات کا علم نہیں تھا کہ میت کے باپ کا حصہ دین میں متعین ہے ، اب پہلا سوال یہ ہے کہ اگر آج میت کے بیوہ بچے دکان بیچتے ہیں تو اُس کی مالیت کو ورثاء میں کس طرح تقسیم کیا جائے گا ؟ دوسرا یہ کہ اگر کوئی وارث اپنا شرعی حق بیوہ بچوں کے حق میں معاف کرتا ہے ، تو اس کا کیا طریقہ ہونا چاہیئے ؟ مزید یہ کہ اگر دکان” 2 کروڑ “ میں فروخت ہوتی ہے ، (فرضی طور پر) تو وراثت کی تقسیم کِس طرح کی جائے گی ؟
نوٹ : مرحوم نوید کا انتقال 1998ء میں ہو چکا تھا ، ابھی ایک بھائی کے علاوہ پانچ بھائی اور پانچ بہنیں حیات ہیں۔
مذکور دکان اگر سائل کے والدِ مرحوم(مسمٰی نوید) کی ذاتی ملکیت تھی ، تو مرحوم کی وفات کے بعد یہ اُس کا ترکہ بن چکی ہے ، جو کہ دیگر ترکے کی طرح مرحوم کے تمام ورثاء میں حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم ہو گی ، جس میں مرحوم نوید کا والد (سائل کا دادا) مسمٰی مرسلین بھی اپنے حصے کے بقدر حقدار تھا ، اور چونکہ مرحوم مرسلین کا بھی انتقال ہو چکا ہے ، اس لئے انہیں اپنے بیٹے مسمیٰ نوید کے ترکے میں سے ملنے والا حصہ اب اسکے ورثاء میں حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم ہوگا ۔
تاہم مرحوم مرسلین کا جو بیٹا والد کی زندگی میں 2011 میں انتقال کر گیا ہے ، اسکے ورثاء شرعاً والد کے ترکے میں حصہ دار نہ ہونگے ، البتہ اگر دیگر ورثاء اپنی مرضی سے انہیں بھی کچھ دینا چاہیں ، تو انہیں اس کا اختیار حاصل ہے۔
جبکہ ورثاء میں اگر کوئی وارث اپنا حصہ معاف کرنا چاہے ، تو فقط معاف کر دینے سے تو اس کا حق ختم نہ ہو گا ، البتہ اگر وہ ترکے میں سے کچھ لیکر بقیہ حصے سے دستبردار ہو جائے یا اپنا حصہ کچھ قیمت لیکر دیگر ورثاء کو فروخت کردے تو ایسا کرنے سے شرعاً اس کا حصہ ختم ہو جائے گا ۔
اسکے بعد واضح ہو کہ سائل کے والدِمرحوم مسمیٰ نوید کا ترکہ اصول میراث کے مطابق اسکے مذکور ورثاء میں اسطرح تقسیم کیا جائے گا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال اپنی ذاتی ملکیت میں جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا ، چاندی ،زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھر یلو ساز و سامان چھوڑا ہے ، اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اسکے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کوئی واجب الادا قرض ہو تو اس کی ادائیگی کریں ، اُس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (3/1) حصے کی حد تک اُس پر عمل کریں ، اُس کے بعد جو کچھ بچ جائے اسکے کل تین سوساٹھ (360) حصے بنائے جائیں ، جن میں سے مرحوم کی بیوہ کو پینتالیس(45)حصے ، ہر ایک بیٹے کوایک سو دو (102)حصے ، بیٹی کو اکیاون(51) حصے ، ہر ایک بھائی کو آٹھ (8) حصے اور ہر ایک بہن کوچار(4) حصے دیے جائیں -
کما فی صحيح البخاري : عن ابن عباس ، عن النبي ﷺ قال : (ألحقوا الفرائض بأهلها ، فما بقي فهو لأولى رجل ذكر)۔(6/2476)۔
و فی تکملة فتح الملهم : و أن معیار الإرث لیس هو القرابة المحضة و لا الیُتم و المسکنة ، و إنما هو الأقربیة إلی المیت ۔(2/18)۔