والد فوت ہوا ، اب اس کی ایک بیوی ، چار بیٹے ، پانچ بیٹیاں ہیں ، ان کا حصہ کتنا ہوگا ؟ مرحوم کے پاس پینسٹھ لاکھ روپے ہیں ۔
صورتِ مسئولہ میں مرحوم کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق اس کے مذکور ورثاء میں اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال مذکور رقم سمیت جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا ، چاندی ، زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ، اس میں سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض یا بیوہ کا حق مہر واجب الادا ہو تو وہ ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی ( 1/3) کی حد تک اس پر عمل کریں ، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے (104)حصے بنائے جائیں جن میں سے مرحوم کی بیوہ کو تیرہ (13) حصے ، جبکہ چار بیٹوں میں سے ہر ایک کو چودہ (14 ) حصے اور بیٹیوں میں سے ہر ایک کو سات (7 ) حصے دیے جائیں -
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0