مفتیانِ کرام و علماءِ کرام السلام علیکم!
بندہ اس پر تردد کا شکار ہے ،براہِ مہربانی قرآن و حدیث کی روشنی میں تحریری وضاحت فرمائیں،ہمارے والد صاحب کا انتقال ہوگیا ہے، مجھ سمیت چار بھائی اور چار بہنیں ہیں، جس میں دو بھائی مرحوم ہیں، اب تک یہ جگہ والد صاحب کے نام پر موجود ہے، والد صاحب کے انتقال کے بعد پھر ہم بہن بھائیوں نے اس جگہ کو اپنی والدہ کے نام پر منتقل کردیا، اس کے بعد ایک بھائی کا انتقال ہوگیا، جب کہ ان کے اہل و عیال اسی مکان میں رہائش پذیر ہیں، اور دوسرے بھائی کی فیملی سے علیحدگی یعنی طلاق واقع ہوچکی ہے، کیونکہ ان کو نشہ کی گندی بیماری لاحق تھی، جس کی وجہ سے ان کے گھر کا نظام نہ چل سکا، اور علیحدگی کی صورت اختیار کرگئی، پھر ان کی فیملی علیحدگی کے بعد بیرون ملک میں اپنی نئی زندگی آباد کرچکی ہے۔
نوٹ! ایک بہن نے اپنی والدہ سے اپنے حصے کی مد میں رقم اور اس کے ساتھ کچھ قرض کی رقم وصول کی ، معاہدہ کے تحت لیے گئے قرض کی ادائیگی ابھی تک نہ ہوسکی ، اس کے بعداس کا بھی انتقال ہوگیا، پھر نشہ کی حالت میں رہنے والے بھائی کا بھی انتقال ہوگیا، طویل عرصہ گزرنے کے بعد چار بہنوں کی طرف سے حصہ کی رقم کا مطالبہ کیا جارہا ہے، قرآن و حدیث کی روشنی میں کیا ارشاد فرماتے ہیں، بندہ امید کرتا ہے کہ دارالافتاء تحریری فتوٰی عنایت فرمائیں گے۔ اللہ سے دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں دین پر عمل کرنے کی توفیق عطاء فرمائیں۔
مزید وضاحت! مرحوم کے انتقال کے وقت ورثا میں بیوہ، چار بیٹے ( حفیظ الرحمٰن ، جمال الدین، خلیل الرحمن، اور جاوید ) اور چار بیٹیاں ( فرزانہ، فاطمہ، خیر النساء اور زیب النساء ) موجود تھیں، پھر جمال الدین کا انتقال ہوگیا، بیوہ ( سلمیٰ ) ، تین بیٹے ( ابراہیم ، مزمل اور عمران ) موجود تھے، اس کے بعد بیوہ کا انتقال ہوا، ورثا میں تین بیٹے اور چار بیٹیاں تھیں، پھر بیٹے حفیظ الرحمن کا انتقال ہوا، جسکے ورثا میں تین بیٹیاں ( صفیہ، سمیہ اور ساجدہ )موجود تھیں۔
ایک بیٹی فرزانہ نے 2003 میں والدہ سے حصہ کا مطالبہ کیا، تو والدہ نے سب گھر والوں کو بٹھا کر اس بہن کو 25000 بطورِ حصہ دیا، جس کے لئے کوئی مسئلہ وغیرہ معلوم نہیں کیا، اور دس ہزار روپے بطور قرض دیا، اب جب اس سے قرض کا مطالبہ کیا تو وہ کہہ رہی ہے کہ تم نے اس وقت میرا حصہ پورا نہیں دیا تھا، لہٰذا حساب کر کے مجھے پورا حصہ دیا جائے۔
صورتِ مسئولہ میں سائل اور اس کے دیگر بہن بھائیوں کا والد مرحوم کے ترکہ کے مکان کو اپنی والدہ مرحومہ کے فقط نام کرنے سے وہ اس مکان کی مالک نہیں بنی تھی، بلکہ یہ مکان بدستور والد مرحوم کا ترکہ کہلائے گا، جو اس کے انتقال کے وقت موجود تمام ورثا میں اصولِ میراث کے مطابق تقسیم ہوگا، جس کی تفصیل ذیل میں آرہی ہے، جبکہ سائل کی بہن کو اس کے حصۂ میراث میں رقم دیتے وقت اگر کل ترکہ کی باقاعدہ مارکیٹ ویلیو کرکے شرعی ضابطہ کے مطابق تقسیم عمل میں نہ آئی ہو ( جیسا کہ سوال سے بھی معلوم ہورہا ہے) تو اب اس مکان سمیت کل ترکہ کو تقسیم کرتے وقت مذکور بہن کا جو حصہ بنے گا، اس میں بطورِ حصہ وصول کردہ رقم مبلغ 25000 روپے اور بطورِ قرض وصول کی جانے والی رقم ( اگر واپس نہ کی ہو ) مبلغ دس ہزار روپے منہا کر کے بقیہ رقم انہیں حوالہ کرنا لازم ہوگا، البتہ اگر اس کا حصۂ میراث اس رقم سے کم بن رہا ہو تو اس کے ذمہ اپنے حصہ سے زائد رقم دیگر ورثا کو واپس کرنا لازم ہوگا۔
اس کے بعد واضح ہو کہ صورتِ مسئولہ میں مرحوم والد نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد، سونا ، چاندی ، زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ، اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض واجب الادا ہو ، تو وہ ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3 ) کی حد تک اس پر عمل کر یں، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل تین لاکھ گیارہ ہزار چالیس حصے بنائے جائیں ، جن میں سے مرحوم کے ہر بیٹے کو انسٹھ ہزار دو سو دو ( 59202 ) حصے، ہر بیٹی کو انتیس ہزار چھ سو ایک ( 29601 ) حصے، مرحوم بھائی ( جمال الدین ) کی بیوہ کو پانچ ہزار چھ سو ستر ( 5670 ) حصے، اس کے ہر بیٹے کو دس ہزار سات سو دس ( 10710 ) حصے، اور مرحوم بھائی ( حفیظ الرحمٰن ) کی ہر بیٹی کو بارہ ہزار ایک سو چوالیس ( 12144 ) حصے دیے جائیں -
کما فی تکملۃ رد المحتار: الإرث جبری لا یسقط بالاسقاط الخ ( مطلب واقعۃ الفتوٰی ج 7 ص 505 ط: سعید )۔
وفی الھندیۃ: ومنها أن يكون الموهوب مقبوضا حتى لا يثبت الملك للموهوب له قبل القبض الخ ( کتاب الھبۃ ج 4 ص 374 ط: ماجدیۃ )
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0