کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میری والدہ مرحومہ حاجل بنت فقیر محمد جونیجو، بیوہ گل محمد جونیجو جس کا انتقال 13 جولائی 2013ء کو ہوا ، ان کے فارم سات (VII-A) کے مطابق زرعی اراضی تقریباً ایک ایکڑ انتالیس گھنٹے نانا کی طرف سے حصے میں آئے ، انتقال کے وقت ان کے ورثاء میں ایک بیٹی اور دو بیٹے حیات تھے ، باقی تمام ورثاء کا انتقال مرحومہ کی زندگی میں ہی ہوگیا تھا، قرآن و حدیث کی روشنی میں مرحومہ کا ترکہ ان کے مذکور ورثاء میں کس طرح تقسیم ہوگا، مرحومہ کے والدین کا انتقال ان کی حیات میں ہی ہوگیا تھا۔
مرحومہ کے لواحقین کی تفصیلات
1۔ حاجل نت مرحوم فقیر محمد بیوہ گل محمد جونیجو مرحوم تاریخ وفات (2023۔07۔13)،
2۔گل محمد جونیجو (مرحوم شوہر) تاریخ وفات2005۔04۔19)،
3۔غلام نبی جونیجو (مرحوم بیٹا) تاریخ وفات(1994۔04۔04)،
4۔منظور احمد جونیجو( مرحوم بیٹا) تاریخ وفات (2007۔09۔21)،
5۔مسماۃ زرینہ بیگم( مرحومہ بیٹی) تاریخ وفات(2008۔03۔24)،
6۔مسماۃ حسینہ بیٹی بیوہ محمد اکمل زندہ ہے عمر تقریباً 72 سال ،
7۔ خالد محمود جونیجو بیٹا زندہ ہے عمر تقریباً 65 سال،
8۔ افتخار احمد جونیجو بیٹا زندہ ہے عمر تقریباً 59 سال ،
مرحومہ کا ترکہ مذکور ورثاء میں کس طرح تقسیم ہوگا ؟
سائل کے جو بہن بھائی والدہِ مرحومہ کی زندگی میں انتقال کرچکے ہیں وہ شرعاً مرحومہ کے ترکے میں حصہ دار نہیں تھے ، چنانچہ اب مرحوم بہن بھائیوں کی اولاد کو شرعاً سائل کی والد ہ مرحومہ کےترکے میں حصہ داری کے مطالبے کاحق حاصل نہ ہوگا ،البتہ اگر سائل اور اس کے دیگر بہن بھائی اپنی مرضی سے اپنے مرحوم بہن بھائیوں کی اولاد کو کچھ دینا چاہیں تو اس کا انہیں اختیار ہے ۔
اس کے بعد واضح ہو کہ سائل کے والدہ مرحومہ کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق ان کے مذکور ورثاء میں اس طرح تقسیم ہو گا کہ مرحومہ نے بوقت انتقال اپنی ذاتی ملکیت میں جو کچھ منقولہ اور غیر منقولہ مال و جائیداد، سونا، چاندی، زیورات ،نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھر یلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے، اس میں سب سے پہلے مرحومہ کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں، اسکے بعد دیکھیں کہ اگر ان کے ذمہ کچھ قرض واجب الاداء ہو تو و ہ اداکریں، اسکے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومہ نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (3/1) کی حد تک اس پر عمل کریں، اسکے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل(5) حصے بنائے جائیں، جن میں سے مرحومہ کےہر بیٹے کو(2) حصےاورمرحومہ کی بیٹی کو(1) حصہ دیا جائے -