کیا فرماتے ہیں مفتیان ِکرام مسئلۂ ذیل کے بارے میں کہ میری امی کی دو جگہ شادی ہوئی تھی ، وہاں سے ایک بہن ہے میری ، اور دوسری جگہ شادی ہوئی تھی وہاں سے میری پیدائش ہوئی تھی ، اب مسئلہ یہ ہے کہ میری امی نے لڑکیوں کو پڑھا کر کچھ زمین خریدی ، اب اس میں میرا اور میری بہن کا کتنا حصہ ہے ؟گذارش ہے مذکورہ مسئلہ وضاحت کے ساتھ بتادیں۔
سائل نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ اس کی والدہ بقید حیات ہے یا اس کا انتقال ہو چکاہے ؟ تاہم اگر سائل کی والدہ کا انتقال ہوچکاہو اور اس کے ورثاء میں فقط سائل اور اس کی ایک بہن موجود ہوں ، ان دو نوں کے علاوہ اس کا کوئی وارث نہ ہو ، تو ایسی صورت میں اس کا ترکہ سائل اور اس کی بہن کے درمیان اصولِ میراث کے مطابق اس طرح تقسیم ہوگا کہ سائل کی والدہ مرحومہ نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ اور غیر منقولہ مال و جائیداد ،سونا ، چاندی، زیورات ، نقدرقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑاہے ، وہ سب مرحومہ کا ترکہ ہے ، جن میں سے سب سے پہلے مرحومہ کے کفن و دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومہ کے ذمہ کچھ قرض واجب الادا ہوتووہ ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومہ نے کوئی جائز وصیت کی ہوتو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3) کی حد تک اس پر عمل کریں ، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اسکے کل (3)حصے بنائے جائیں، جن میں سے سائل( یعنی بیٹے )کو دو حصے جبکہ بیٹی کو ایک حصہ دے دیا جائے.