حضرت ہمارا ایک چچا فوت ہوگیا ہے اور اس کا کوئی بھی وارث نہیں تھا ، نہ بیوی نہ بچے ، تو اس کی وراثت جو بہن بھائی حیات تھے صرف انہی کو ملی اور دو بھائی اور دو بہنیں فوت ہو گئی ہیں، ان کی اولادوں کو میراث میں سے حصہ نہیں ملا ، تو براہِ مہربانی شرعی اور قانونی طور پر کیا فوت شدگان کی اولادوں کو حصہ ملے گا یا نہیں؟
نوٹ: مرحوم بہن بھائی مذکور مرحوم چچا سے پہلے انتقال کرگئے تھے۔
واضح ہوکہ مورث کی حیات میں اگر کسی وارث کا انتقال ہوجائے تو قریبی ورثاء کی موجودگی میں وہ وارث اور اس کے پسماندگان , مورث کی وراثت میں شرعاً حصہ دار نہیں ہوتے ،بلکہ محروم ہوجاتے ہیں -
لہذا صورتِ مسؤلہ میں سائل کے مرحوم چچا کے دو بھائی اور دو بہنوں کا انتقال چونکہ مرحوم چچا کی زندگی میں ہوا ہے اور بوقتِ انتقال مرحوم چچا کے دیگر بہن بھائی بھی موجود تھے،اس لئے مرحوم چچا کی زندگی میں انتقال کرجانے والے بہن بھائیوں کی اولادیں شرعاً مرحوم کے ترکے میں حصہ دار نہ ہونگی،البتہ اگر مرحوم کے ورثاء (موجود بہن بھائی) اپنی مرضی سے اپنے مرحوم بہن بھائیوں کی اولادوں کو کچھ دینا چاہیں تو اس کا انہیں اختیار ہے ۔
کمافی الشامیة : ان شرط الارث وجود الوارث حیا عند موت المورث اھ (6/769)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2