میں اپنے والد کی وفات کے چند دن بعد پیدا ہوا ، میرا دادا حیات تھا، اور میرے والد کا انتقال ہو گیا ، میرے چچا اور پھوپھی بھی ہے، کیا میرے دادا کی جائیداد ، میراث میں میرا حصہ بنتا ہے؟جائیداد کا کچھ حصہ میرے دادا نے اپنی زندگی میں میرے نام کر دیا تھا، بقیہ جائیداد میں میرا حصہ بنتا ہے یا نہیں؟
سائل کے والد مرحوم کا انتقال چونکہ سائل کے دادا مرحوم سے پہلے ہو چکا تھا اس لئے سائل اپنے چاچاؤں اور پھوپھویوں کی موجودگی میں اپنے والد مرحوم کے توسط سے دادا مرحوم کے ترکے میں شرعاً حصہ دار نہیں ہوگا ,چنانچہ سائل کو دادا مرحوم کے ترکے میں شرعاً حصہ داری کے مطالبہ کا حق حاصل نہ ہوگا البتہ اگر ورثاء اپنی مرضی و خوشی سے سائل کو کچھ دینا چاہیں تو اس کا انہیں اختیار ہے، لیکن ایسا کرنا ان کے ذمہ لازم اور ضروی نہیں جبکہ سائل کے دادا مرحوم نے اگر اپنی صحت والی زندگی میں مرض الموت سے پہلے جائیداد کا مذکور حصہ کا غذات میں نا م کردینے کے ساتھ سائل کو باقاعدہ مالکا نہ قبضے کیساتھ ہبہ (گفٹ) کیا ہو تو ایسی صور ت میں سائل شرعاً اس حصہ کا مالک بن چکا تھا ،اب وہ باقی ترکے میں شامل نہ ہوگا ،تاہم اگر سوال کی نوعیت مختلف ہو تو اس کی مکمل وضاحت کرکے سوال دوبارہ ارسال کردے ، اس پر غور و فکر کے بعد ان شاءاللہ حکمِ شرعی سے آگاہ کیاجائے گا۔
کما فی الدرالمختار : (و تتم) الهبة (بالقبض) الكامل (و لو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) و الأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها(5/690)۔
کمافی ردالمحتار : و موضوعه : التركات، و غايته: إيصال الحقوق لأربابها ، و أركانه : ثلاثة وارث و مورث و موروث . و شروطه : ثلاثة : موت مورث حقيقة ، أو حكما كمفقود ، أو تقديرا كجنين فيه غرة و وجود وارثه عند موته حيا حقيقة أو تقديرا كالحمل(6/758)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2