امید ہے کہ مفتی صاحب آپ خیریت سے ہونگے، مفتی صاحب ایک مسئلہ پیش آیا ہے، اگر آپ راہ نمائی فرمائیں تو آپ کی مہربانی ہوگی ،حضرت مسئلہ یہ ہے کہ ہم سات بہنیں اور تین بھائی ہیں، والدین کی وفات ہو چکی ہے، پانچ بہنوں کی والدین کی موجودگی میں شادی ہوئی ہے،ایک بہن کی شادی صرف والدہ کی موجودگی میں ہوئی ہے، ایک بہن کی شادی میں نے اپنے خرچہ سے کی ہے، (30000 )روپے بھائی نے دیے تھے ،ایک بہن کی شادی میں نے اور میرے چھوٹے بھائی نے کی ہے، اب چوتھی کی شادی ہوئی ہم دو بھائیوں کے خرچہ پر ،اب ایک زمین گاؤں میں ہے اور دو گھر کراچی میں،ایک، ایک چھت کا،اور دوسرا تین چھت کا،ایک اپنی رہائش گاہ ہے،اور دوسراکرایہ پر دیا ہوا ہے ،جو اپنی رہائش گاہ ہے وہ خراب ہو گئی تھی، دولاکھ روپے میں نے اپنےلگائے۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ ہم اپنا یہ خرچہ میراث سے الگ کرسکتے ہے یا نہیں ؟جو گھر کرایہ پر دیا ہے اس میں اپنی بہن تھی ،وہ کبھی کرایہ دیتی ہے، کبھی نہیں، تین یا چار مہینے بعد ایک کرایہ دے دیتی ہے، والدہ کی وفات کے بعد گھر کا کرایہ ذاتی گھر پہ لگ جاتا ہے،کبھی اپنی جیب سے بھی دینا پڑتا ہے، 2021ء میں بھائی کے سعودی عرب جانے کے بعد حالات کےٹھیک ہونے کی صورت میں کر ایہ بہنوں پر خرچ کیا ، اب میرا اپنا خرچہ ہٹانے کا کچھ حق بنتا ہےیا نہیں؟ اور میراث کس طرح تقسیم کریں؟
سائل اور اس کے چھوٹے بھائی نے اپنی بہنوں اور بھائی کی شادی پر اپنی ذاتی جو رقم خرچ کی ہے ،اگر خرچ کرتے وقت اس بات کی صراحت نہیں کی تھی کہ یہ جو اخراجات ہم تمہاری شادی میں کر رہے ہیں یہ بطورِ قرض ہے جس کا ہم بعد میں مطالبہ کریں گے ،تو یہ سائل اور اس کے بھائی کی طرف سے تبرع شمار ہوگا ،لہٰذا تقسیم کے وقت سائل اور اس کے بھائی کیلئے مذکور رقم کے مطالبہ کا حق نہیں ۔
البتہ مذکور گھر پر اگر سائل نے رقم خرچ کرتے وقت قرض کی یا ترکہ سے منہا کرنے کی صراحت نہیں کی تھی تو یہ سائل کی طرف سے تبرع شمار ہوگا ،لہٰذا اب سائل اس کا مطالبہ نہیں کر سکتا ۔
جبکہ سائل کی مذکور بہن کے ساتھ اگرورثا ء کی رضامندی سے مذکور گھر کے کرایہ کا باقاعدہ معاہدہ طے ہو چکا تھا ،تو اس گھر کے کرایہ کی ادائیگی سائل کی مذکور بہن پر شرعاً لازم ہے ،اور وہ کرایہ بھی سائل کی مذکور بہن سمیت تمام ورثاء میں حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم کیا جائے گا ۔
اسکے بعد واضح ہو کہ سائل کے مرحوم والد کا ترکہ اصولِ میراث مطابق اس کے مذکور ورثاء میں اس طرح تقسیم ہو گا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال مذکور مکانوں سمیت جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا، چاندی، زیورات، نقدر قم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھر یلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ، اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض واجب الادا ہو تو وہ ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3) کی حد تک اس پر عمل کرکےاس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل تیرہ (13)حصے بنائے جائیں، جن میں سے مرحوم کے ہر بیٹے کودو (2)حصے اور مرحوم کی ہر بیٹی کوایک (1)حصہ دیا جائے۔
کما فی الرد :و الذي تحصل في هذا المحل أن الشريك إذا لم يضطر إلى العمارة مع شريكه بأن أمكنه القسمة فأنفق بلا إذنه فهو متبرع، و إن اضطر و كان الشريك يجبر على العمل معه فلا بد من إذنه أو أمر القاضي فيرجع بما أنفق، و إلا فهو متبرع إن اضطر و كان شريكه لا يجبر،اھ(4/334)۔
و فی تنقیح الحامدیۃ : المتبرع لا يرجع بما تبرع به على غيره كما لو قضى دين غيره بغير أمره. اهـ. أقول و يأتي قريبا في أول كتاب الرهن نقل آخر في هذه المسألة.اھ(2/226) و فی الہندیۃ :(و أماركنها) فالإيجاب و القبول بالألفاظ الموضوعة في عقد الإجارة.اھ(4/409)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2