مفتی صاحب عرض ہے کہ میں ایک بیوہ عورت ہوں اور میری چار بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے , جن میں ایک بیٹا اور دو بیٹیاں بلوغت کی عمر کو پہنچ چکے ہیں اور دو بیٹیاں ابھی چھوٹی ہیں جو کہ سب کے سب ابھی میری کفالت میں ہیں اور زیر تعلیم ہیں ,اس کے علاوہ میرے مرحوم شوہر کے والد کا تو کافی عرصہ پہلے انتقال ہو گیا تھا لیکن ان کی والدہ ابھی بھی حیات ہیں اور ان کے پانچ بھائی اور دو بہنیں بھی حیات ہیں جو کہ سب کے سب شادی شدہ ہیں , یہاں پر میں یہ بھی بتاتی چلوں کہ اس وقت تو میں سرکاری مکان میں رہائش پذیر ہوں لیکن اگلے دو سال کے اندر اندر مجھے یہ مکان خالی کرنا ہے اور تب پھر میرے پاس رہائش کے لئے کوئی مکان بھی نہیں ہو گا ،میرے شوہر پاکستان نیوی میں ملازم تھے اور اب انکے انتقال کے بعد مجھے پینشن کی مد میں تقریبا مبلغ 1992268 وصول ہوئے ہیں اور اس کے علاوہ بچوں کی کفالت کے لئے ماہانہ بنیادوں پر تقریباً 21 ہزار کی رقم مجھے وصول ہو رہی ہے اور کچھ رقم ابھی ادارے کی طرف باقی ہے جو کہ آئندہ ایک دو سال میں ملنا متوقع ہے ,اب پوچھنا یہ ہے کہ:
١- پینشن کی مد میں اب تک مجھے جو کل رقم وصول ہوئی ہے اس کے حصے کس طرح کیے جائیں گے ؟
٢- آیا اس ٹوٹل رقم سے ان کی والدہ کو بھی حصہ دیا جائے گا اور اس کے علاوہ ان کے بہن بھائیوں کا بھی اس میں کوئی حصہ بنتا ہے تو اس کی بھی وضاحت فرما دیں؟
٣-مزید یہ بھی بتا دیں کہ یہ رقم چونکہ ابھی میرے اکاؤنٹ میں ہے اور اسی سے میں اپنے بچوں کی کفالت کر رہی ہوں اور میری آمدنی کا کوئی اور ذریعہ بھی نہیں ہے تو جو میرے بچے بالغ ہیں کیا ان کو ان کا حصہ دیا جائے ؟ یا ان کو محض بتانا کافی ہے کیونکہ وہ ابھی اتنے سمجھدار نہیں ہیں.
٤- اگر اس مجموعی رقم سے کچھ یا ساری رقم کسی کاروبار یا کسی پراپرٹی میں انویسٹ کی جائے تو اس صورت میں اس کے لئے کیا حکم ہوگا یا اس کی حاصل شدہ منافع کی تقسیم کا کیا طریقہ کار ہوگا ؟
٥- ٹوٹل مجموعی رقم کو ورثاء کے اندر کس طرح تقسیم کیا جائے گا اور ہر ایک کے حصے میں کتنی کتنی رقم آئے گی.
واضح ہوکہ ملازم کی وفات کے بعد ادارے کی طرف سے پنشن کی مد میں ملنے والی رقم شرعاً ترکہ نہیں ، بلکہ مرحوم کے پسماندگان کے ساتھ تبرع و احسان شمار ہوتی ہے ، اور ادارہ مرحوم کے پسماندگان میں سے جس فرد کو پنشن کی رقم کیلئے نامزد کردے , شرعاً وہی اس کا حق دار ہوتا ہے ، لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر ادارے کی طرف سے پنشن کی رقم کیلئے سائلہ کو نامزد کیا گیا ہو تو شرعاً یہ رقم سائلہ ہی کی ملکیت شمار ہوگی ، اس میں مرحوم کی والدہ ، بہن بھائیوں اور اولاد کا شرعاً کوئی حصہ نہ ہو گا ، اور اس رقم کوکسی کاروبار میں لگانے یا اس سے پراپرٹی خریدنے یا اس کے علاوہ کسی اور مصرف میں خرچ کرنے کا سائلہ کو اختیار حاصل ہے ، اور اس رقم کو کاروبار میں لگانے کی صورت میں اگر منافع حاصل ہو جائیں تو وہ بھی سائلہ ہی کی ملکیت شمار ہوگا ،البتہ ادارے کی طرف سے بچوں کی کفالت کی غرض سے ماہانہ بنیادوں پر جو رقم دی گئی ہے ، اور آئندہ جو دی جائے گی وہ رقم سائلہ کے بچوں کی ملکیت ہے ، اور سائلہ کے ذمہ یہ رقم بچوں کی ضروریات پر خرچ کرنا اور بچوں کے سمجھدار ہونے اور نفع و نقصان کی صلاحیت پیدا ہونے کے بعد یہ رقم انہیں حوالے کردینا لازم اور ضروری ہوگا -
2)۔ پنشن کی رقم کے متعلق تو تفصیل پہلے سوال کے جواب کے ذیل میں ذکر کی گئی ہے ، البتہ اس کے علاوہ جو رقم ادارے کی طرف سے دی جائے گی یہ اگر کوئی ایسا فنڈ ہو جس کا مرحوم اپنی ذندگی میں حق دار بن چکا ہو (جیساکہ پراویڈنٹ فنڈ کی رقم ) تو یہ رقم مرحوم کا ترکہ شمار ہوگا ،جس میں مرحوم کی والدہ بھی اپنے شرعی حصے کےبقدر حق دار ہوگی ، البتہ اس میں مرحوم کے بہن بھائیوں کا شرعاً کوئی حق نہ ہوگا ،تاہم اگر کسی اور نوعیت کا فنڈ ہو تو اس کی تفصیل ذکر کرکے سوال دوبارہ ای میل کردیا جاۓ اس پر غور و فکر کے بعد ان شاءاللہ حکمِ شرعی سے آگاہ کیا جائے گا-
3) ۔ اکاؤنٹ میں موجود رقم اگر پنشن کی ہے اور سائلہ کے نام سے دی گئی ہے تو چونکہ وہ شرعاً سائلہ کی ملکیت ہے ، اس لئے اس کو کاروبار میں لگانے یا اپنے بالغ و نابالغ بچوں کی کفالت پر خرچ کرنے میں سائلہ کو کسی سے اجازت لینے یا کسی کو بتانے کی ضرورت نہیں, بلکہ سائلہ اس میں اپنی مرضی سے جس طرح چاہے تصرف کرسکتی ہے ،البتہ اس رقم کے علاوہ جو رقم بچوں کی کفالت کی غرض سے دی جارہی ہے وہ اگر مرحوم کے سارے بچوں کیلئے دی جارہی ہو تو اس میں سب کا حق ہے ،اب اگر بچوں کی طرف سے اس رقم کی حوالگی کا مطالبہ نہ ہو تو سائلہ کے ذمہ انہیں وہ رقم حوالہ کردینا لازم اور ضروری نہیں بلکہ ان کی اجازت سے وہ رقم اجتماعی طور پر بچوں کی کفالت پرخرچ کی جاسکتی ہے -
4)۔پنشن کی رقم اور مرحوم کے بچوں کی کفالت کی غرض سے دی جانے والی رقم کے علاوہ اگر اکاؤنٹ میں مرحوم کے ترکے کی رقم موجود ہو تو اس میں چونکہ تمام ورثاء کا حصہ ہے ، اس لئے سائلہ کیلئے ورثاء کی اجازت کے بغیر اس رقم میں تصرف کرنا یا اسے کاروبار وغیرہ میں لگانا درست نہ ہوگا ، بلکہ اس رقم میں مرحوم کی والدہ کے حصے میں جو رقم آئے گی وہ تو انہیں حوالہ کردینا لازم اور ضروری ہو گا ، اس کے علاوہ جو رقم سائلہ کی بالغ بیٹیوں اور بیٹے کے حصے میں آئے گی وہ اگر فی الحال اپنے حصے کی رقم کو وصول کرنے کے بجائے کسی کاروبار میں لگانے پر رضامند ہوں تو سائلہ کیلئے ان کی اجازت سے یہ رقم کاروبار میں لگانا جائز ہو گا ، جبکہ نابالغ بچیوں کے حصے میں جو رقم آئے گی اس کے متعلق تفصیل یہ ہے کہ اگر سائلہ کے مرحوم شوہر نے اپنی زندگی میں اپنے بالغ بیٹے (بچیوں کےبھائی ) کو ان کا وصی اور نگران مقرر کیا ہو تو ایسی صورت میں سائلہ اپنے بیٹے کی اجازت و رضامندی سے نابالغ بیٹیوں کی رقم کسی محفوظ کاروبار میں لگائے تو شرعاً اس کی گنجائش ہو گی ،اور کاروبار میں ہونے والا منافع سب کے درمیان ان کے حصوں کے بقدر تقسیم کیاجائے گا،لیکن اگر مرحوم نے اپنے بیٹے کو نابالغ بچیوں کا نگران و سرپرست نامزد نہ کیاہو تو ایسی صورت میں نابالغ بچیوں کے حصوں میں آنے والی رقم فی الحال بطورِ امانت محفوظ رکھی جائے گی ، اور ان کے بالغ اور سمجھدار ہونے کے بعد وہ رقم ان کے حوالہ کی جائے گی ۔
اس کے بعد واضح ہو کہ سائلہ کے مرحوم شوہر کا ترکہ اصول میراث کے مطابق اس کے مذکور ورثاء میں اس طرح تقسیم ہوگا ،کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال وجائیداد ،سوناچاندی،زیورات ،نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو سازوسامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ،وہ سب مرحوم کا ترکہ ہے جس میں سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں،اسکے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض یا بیوہ کا حق مہر واجب الادا ہو تو وہ ادا کریں،اسکے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (3/1)حصے کی حد تک اس پر عمل کریں ،اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اسکے کل (144) حصے بنائے جائیں, جن میں سے مرحوم کی بیوہ کو (18) حصے ،والدہ کو (24) حصے، بیٹے کو (34) حصے ،اور ہر بیٹی کو (17) حصے دیے جائیں ،جیساکہ ذیل کے نقشہ سے بھی واضح ہو رہا ہے ،مزید سہولت کیلئے فیصدی حصے بھی لکھ دیے گئے ہیں ۔
مسئلہ : 24/144 المضروب : 6
میــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بیوہ والدہ بیٹا بیٹی بیٹی بیٹی بیٹی
3 4 102/17
18 24 34 17 17 17 17
12.5% 16.666% 23.611% 11.805% 11.805% 11.805% 11.805%
قال اللہ تعالی {وَ ابْتَلُوا الْيَتَامَى حَتَّى إِذَا بَلَغُوا النِّكَاحَ فَإِنْ آنَسْتُمْ مِنْهُمْ رُشْدًا فَادْفَعُوا إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ} [النساء: 6]-
و فی التفسير المظهري : فالمعنى و ابتلوا اليتامى حتى تدفعوا إليهم أموالهم إذا بلغوا النكاح و آنستم منهم رشدا فالابتلاء سبب للدفع و الدفع مشروط بشرطين البلوغ و إيناس الرشد و لذا قال الشافعي و مالك و احمد و ابو يوسف و محمد لا يدفع إليهم أموالهم ابدا ما لم يونس منهم الرشد خلافا لابى حنيفة حيث قال إذا بلغ خمسا و عشرين سنة يدفع اليه ماله لان المنع باعتبار اثر الصبا و هو فى أوائل البلوغ و ينقطع بتطاول الزمان فلا يبقى المنع اھ (ج:2/ 14)۔
و فی الشامیۃ : (قوله دون الأم أو وصيها) قال الزيلعي : و أما ما عدا الأصول من العصبة كالعم و الأخ أو غيرهم كالأم و وصيها و صاحب الشرطة لا يصح إذنهم له ؛ لأنهم ليس لهم أن يتصرفوا في ماله تجارة فكذا لا يملكون الإذن له فيها و الأولون يملكون التصرف في ماله فكذا يملكون الإذن له في التجارة (قوله هذا في المال) ليس على إطلاقه . ففي وكالة البحر عن خزانة المفتين : و ليس لوصي الأم ولاية التصرف في تركة الأم مع حضرة الأب أو وصيه أو وصي وصيه أو الجد ، و إن لم يكن واحد ممن ذكرنا فله الحفظ اھ (6/174)-
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2