میرا سوال کاروبار کے حوالے سے ہے , ہمارا کام چائنہ سے امپورٹ کا ہے , ہم جب کوئی چیز امپورٹ کرتے ہیں تو اسکی پیمنٹ دو طریقوں سے چائنہ بھیجی جا سکتی ہے, ایک بینک کے طریقے سے , جس میں ٹیکس بھی کٹتا ہے , اور دوسرا طریقہ حوالے کا ہے , اب میرا سوال یہ ہے کہ اگر ہم بینک سے پیسےبھیجیں تو جتنا خرچہ مال پر آتا ہے اس سے سستا یہاں پر بک رہا ہوتا ہے , کیوں کہ ہر کوئی حوالے سے پیمنٹ بھیجتا ہے جس سے خرچہ مال پے کم آتا ہے, تو اس لئے حوالے سے ہی اگر ہم پیمنٹ کریں تو ہم مال مارکیٹ کے ریٹ کے مطابق بیچ سکتے ہے ،اب اگر حوالے کے ذریعے ہم مال منگوائیں تو کیا ہمارا کاروبار حلال ہے یا حرام؟
سائل کے لئے چائنہ سے حلال مال منگوانا اور اس کو فروخت کرکے پرافٹ حاصل کرنا تو بلا شبہ جائز اور درست ہے ، البتہ ہنڈی کے ذریعے پیمنٹ کی ادائیگی چونکہ قانوناً ممنوع ہے ،اس لئے سائل کو ہنڈی کے بجائے قانونی طریقہ کار کے مطابق پیمنٹ کا ادائیگی کا اہتمام کرنا چاہیئے-
کما فی صحيح البخاري عن ابن عمر رضي الله عنهما ، عن النبي صلى الله عليه و سلم ، قال : «السمع و الطاعة حق ما لم يؤمر بالمعصية ، فإذا أمر بمعصية ، فلا سمع و لا طاعة» .(رقم الحديث:7144، ج:2،ص:1075)۔
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0