میرے والد جن کی گیارہ اولادیں تھیں، دو بیٹے اور نو بیٹیاں ، ایک بیٹے اور تین بیٹیوں کا ا نتقال والدین کی زندگی میں ہو گیا تھا،حیات اولادوں میں ا یک بیٹا اور چھ بیٹیاں ہیں، میرے والد نے ا پنی زندگی میں ایک گھر بھائی کو دلایا تھاستمبر2000کو، والد کا اِنتقال 2016 ,10 Juneکو ہونے سے قبل والد نے مجھے بھائی کی کفالت کی غرض سے کچھ رقم دی 2016 ,14 May کو،گھر دلانے کے بعد، والد کی موجودگی میں اُن ۱۶ سالوں میں کسی بیٹی نے کوئی اعتراض نہیں کیا اور والد کے ا نتقال کے ۷ سال بعد دیگر بہنوں کو بھائی کو دیے جانے والے گھر اور رقم پر اعتراض ہے، والد کے انتقال کے بعد وراثت ہونے لائق کچھ بھی نہیں ہے،میری بہنوں کا یہ کہنا ہے کے والد نے اپنا گھر اور تمام جمع پونجی صرف بھائی کو دے دی جو کہ ایک غیر شرعی عمل ہے، اور وراثت کو دو با رہ سے شرعی اعتبار سے کیا جانا چاہیئے ، میرا مؤقف یہ ہے کہ والد نے ا پنی زِندگی میں بھائی کو جو کچھ بھی دیا ہے وہ اب وِراثت کا حِصّہ نہیں بن سکتا ،کیونکہ وہ والد نے اپنی زندگی میں فیصلہ کیا تھا ، گھر بیٹے کے نام پر ہے یہ بات تمام بہنوں کے علم میں شروع سے تھی، والد نے بھائی کو بظاہر زیادہ سپورٹ اس لئے کیا کیونکہ بھائی دماغی اور جسمانی لحاظ سے کمزور (معذور) ہے اور والد نے اپنی حیات ہی میں اس کی کفالت کی ہے چو نکہ بھائی کمانے کی ذہنی اور جسمانی صلاحیت نہیں رکھتا، میرا بھائی شادی شدہ بھی ہے اور اس کے بچے بھی ہیں، (۱) گھر کی سیل ڈیڈ والد نے بھائی کے نام پہ ہی بنوائی تھی، والد جب تک حیات تھے اور انکے ا نتقال کے بعد بھی بھائی شروع سے ہی اُسی گھر میں رہائش پذیر ہیں، گھر شروع سے بھائی کے نام پہ ہے اس بات کا علم تمام بہنوں کو ہے، (۲) تمام بہنوں کو شادی کے وقت والدین نے ا پنی استطاعت کے مطابق سونا اور فرنیچیر کے ساتھ دیگر ضروریات کی چیزیں دی تھیں ، (۳) والد نے جو رقم مجھے دی وہ یہ کہ کر دی کے وہ بھائی (اطہر) کی ہے اور اس رقم کا میں جیسے چاہوں استعمال کروں بھائی کے لئے، اس سارے کیس میں مختلف سوالات کے جواب درکار ہیں، (۱) زندگی میں نام کی گئی تمام چیز یں کیا ورا ثت میں شمار ہونگی؟ (۲) ا گر ہاں تو والد کی طرف سے دی گئی تمام چیز یں تمام بہن بھائیوں سے واپس لے کر ورا ثت کے شرعی طریقے سے تقسیم کی جائیں گی؟ (۳) جو مال واپس آئے گا اس میں سے مرحوم کی بقایا زکوٰۃ، چھوڑے گئے روزے اور نماز کا فدیہ بھی ادا کیا جائے گا؟ (۴) میرے والد نے مجھے جو رقم بھائی کی کفالت کے طور پر امانت دی ہے، میری باقی بہنیں ورا ثت کے حصے کے لئے اسکا تقاضہ کر رہی ہیںَ ، میرے علم کے مطابق اُس رقم کو کسی اور کے حو الے کرنا ا مانت میں خیانت ہے، (۵) او پر دی گئی خاندان کی تفصیل کے مطابق وراثت کی تقسیم کا فارمولہ بھی بیان کر دیں۔
مزید وضاحت : سائلہ کا مذ کور بھائی دماغی طور پر معذور ہے ،اس لئے خرید و فروخت کے معاہدے میں تو شر یک نہیں تھا ،اور والد نے مذکور گھر ڈائر یکٹ بیٹے کے نام پر خریدا تھا ،البتہ گھر خریدنے کے بعد اس کی فائل وغیرہ ایک بیٹی کے حوالہ کرکے اس کو اس گھر کا نگران بنایا ،وہی بیٹی کرایہ دار وغیرہ بٹھانے کا اختیار رکھتی تھی ،پھر وہ اس گھر میں خود رہنے لگی اور کرایہ کی رقم بھائی کے بچوں وغیرہ میں ادا کر دیتی تھی ،پھر والدنے اس بیٹی کے بجائے دوسری بیٹی کو اس کا نگران بنایا اور ساتھ ا پنی سیونگ وغیرہ رقم بھی بیٹی کو یہ کہہ کر دیا کہ یہ رقم بیٹے اطہر کی ہے اس پر ضرورت کے مطابق خرچ کرنا۔
واضح ہو کہ ہر شخص ا پنی صحت والی زندگی میں مرض الوفات میں مبتلاء ہونے سے قبل اپنے تمام مال و جائیداد کا تنہا مالک ہوتا ہے ،وہ جس طرح چاہے اس میں تصرف کرسکتا ہے ، لہذا سائلہ کے والد مرحوم نے ا پنی زندگی میں جہیز کے سامان اور زیورات وغیرہ کی صورت میں باقاعدہ مالکانہ قبضے کے ساتھ ا پنی بیٹیوں کو جو کچھ دیا تھا وہ تو شرعاً ان کی ملکیت بن چکا ہے ، اب والد مرحوم کی وفات کے بعد بیٹیوں ذمہ وہ زیورات اور سامان وغیرہ ترکے میں جمع کرانا لازم اور ضروری نہیں ، اسی طرح سائلہ کامذکور بھائی اگر ذہنی معذور ہونے کی وجہ سے اپنے معاملات ازخود مکمل کرنے پر قادر نہ ہو اور سائلہ کو والد مرحوم نے مذکور بھائی کا سرپرست اور نگران مقرر کرکے بھائی کی کفالت کیلئے رقم دی ہو تو ایسی صورت میں سائلہ کا قبضہ درصل مذکور بھائی کا قبضہ شمار ہو گا ، اور مذکور رقم مذکور بھائی کی ملکیت شمار ہوگی ، اب سائلہ کی بہنوں کیلئے مذکور رقم میں سے حصے کا مطالبہ کرنا درست نہ ہو گا ،بلکہ سائلہ کے ذمہ مکمل دیانت داری کے ساتھ مذکور رقم اپنے بھائی کی ضروریات پر صرف کرنا لازم اور ضروری ہو گا ، جبکہ مکان کے متعلق مکرر استفسار کے باوجود بھی اس میں ہبہ اور قبضے کے متعلق مکمل صورت اور نوعیت واضح نہ ہو سکی ، اس لئے بہتر یہ ہے کہ کسی قریبی دارلافتاء حاضر ہوکر وہاں موجود مفتیان کرام کے سامنے معاملہ کی مکمل نوعیت واضح کرکے ان سے حکم شرعی معلوم کریں ۔
فی الدرالمختار :و تتم) الهبة (بالقبض) الكامل (و لوالموهوب شاغلا لملك الواهب لامشغولا به) و الأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها،اھ(5/690)۔
و فی الفتاوى الهندية : الموهوب له إن كان من أهل القبض فحق القبض إليه، و إن كان الموهوب له صغيرا أو مجنونا فحق القبض إلى وليه، و وليه أبوه أو وصي أبيه ثم جده ثم وصي وصيه ثم القاضي و من نصبه القاضي، سواء كان الصغير في عيال واحد منهم أو لم يكن، كذا في شرح الطحاوي. (4/392)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2