ترجمہ: والد نے اپنی حیات میں بیٹوں کو کاروبار شروع کروا کر دیا ، والد کی وفات کے بعد وہ کاروبار وراثت میں تقسیم ہوگا یا نہیں ، والد کی طرف سے کوئی وصیت نہیں ہے۔
سائل نے سوال میں اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ بیٹوں نے والد صاحب سے سرمایہ لے کر اپنا مستقل علیحدہ کاروبار شروع کیا تھا یا والد صاحب کے کاروبار کو ترقی دینے اور آگے بڑھانے میں معین اور مددگار رہیں ، تاکہ اس کےمطابق جواب دیا جاتا ، تاہم اگر والد صاحب مرحوم نے اپنی صحت والی زندگی میں اپنے بیٹوں کو باقاعدہ مالکانہ قبضے کے ساتھ سرمایہ دیدیا ہو جس سے بیٹوں نے اپنے لئے علیحدہ اور مستقل کاروبار شروع کیا ہو، تو ایسی صورت میں شرعاً مذکور بیٹے اس کاروبار کے مالک بن چکے ہیں، لہذا مذکور کاروبار والدِ مرحوم کے ترکے میں شامل ہوکر تمام ورثاء میں حسبِ حصص شرعی تقسیم نہ ہوگا ، تاہم اگر والدِ مرحوم نے مذکور بیٹوں کو مستقل اور علیحدہ کاروبار کےلئے مالکانہ طور پر سرمایہ نہ دیا ہو ،بلکہ اپنے کاروبار کو ترقی دینے کی عرض سے بیٹوں کو اپنا معاون اور شریکِ کار مقرر کیا ہو ،تو ایسی صورت میں یہ سارا کاروبار والدِ مرحوم کا ترکہ شمار ہوگا، جوکہ تمام ورثاء میں حسبِ حصص شرعی تقسیم کیا جائے گا، جس کاطریقہ کار بوقتِ ضرورت ورثاء کی تفصیل ذکر کرکے معلوم کیا جاسکتا ہے۔
کما فی الدر المختار و رد المحتار: الأب وابنه يكتسبان في صنعة واحدة ولم يكن لهما شيء فالكسب كله للأب إن كان الابن في عياله"(٤/٣٢٥)۔
وفيه أيضاً: "وكذلك لو اجتمع إخوة يعملون في تركة أبيهم ونما المال فهو بينهم سوية ولواختلفوا في العمل والرأي".
وفی تنقيح الفتاوى الحامدي:"في الفتاوى الخيرية: سئل في ابن كبير ذي زوجة وعيال له كسب مستقل حصل بسببه أموالا ومات هل هي لوالده خاصة أم تقسم بين ورثته؟ أجاب: هي للابن، تقسم بين ورثته على فرائض الله تعالى حيث كان له كسب مستقل بنفسه وأما قول علمائنا "أب وابن يكتسبان في صنعة واحدة ولم يكن لهما شيء ثم اجتمع لهما مال يكون كله للأب إذا كان الابن في عياله" فهو مشروط كما يعلم من عباراتهم بشروط: منها:
(١) اتحاد الصنعة
(٢) وعدم مال سابق لهما
(٣) وكون الابن في عيال أبيه، فإذا عدم واحد منها لا يكون كسب الابن للأب، وانظر إلى ما عللوا به المسألة من قولهم " لأن الابن إذا كان في عيال الأب يكون معينا له فيما يصنع"، فمدار الحكم على ثبوت كونه معينا له فيه فاعلم ذلك . ...... وأجاب أيضا عن سؤال آخر بقوله: إن ثبت كون ابنه وأخويه عائلة عليه، وأمرهم في جميع ما يفعلونه إليه، وهم معينون له فالمال كله له والقول قوله فيما لديه بيمينه، وليتق الله فالجزاء أمامه وبين يديه، وإن لم يكونوا بهذا الوصف بل كان كل مستقلا بنفسه واشتركوا في الأعمال فهو بين الأربعة سوية بلا إشكال، وإن كان ابنه فقط هو المعين والإخوة الثلاثة بأنفسهم مستقلين فهو بينهم أثلاثاً بيقين، والحكم دائر مع علته بإجماع أهل الدين الحاملين لحكمته. (420/4)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2