کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ابو کے انتقال کے وقت ان کے پاس جو کچھ تھا۔
1: فلیٹ ( جس کو بیچ کر سب کو شرعی طریقے سے حصے ادا کر دیے تھے ) -
2 : ایک دکان ۔
3: ایک گاڑی
4: دکان کے مال کی مالیت 50 لاکھ یا 40 لاکھ ۔5: گھر کیلئے ڈالی ہوئی BC کی دو قسطیں جو ابو نے خود ادا کیں تھیں 4 لاکھ -
دکان کرایہ پر ہے جس کے کرائے کی رقم کو ماہانہ شرعی طور سے تقسیم کرتے ہیں ،2005 میں ابو کا انتقال ہوا تھا اس وقت میری عمر 18 سال تھی ،اب 35 سال ہے ،ابھی تک دکان کا حصہ اسلئے ادا نہیں ہوا کیونکہ دکان کے کاغذات چاچی کے نام پر تھے ،اور ابھی تک ہمارے نام پر نہیں ہوئے ہیں،ابو کے انتقال کے چوتھے دن دکان کا جھٹا کروا کر ہمارے بڑے چاچا نے کہا کہ اب بس تم دونوں بھائی اسی دکان سے کماتے رہو اور وراثت کی کوئی لکھ پڑھت نہیں کی،میری شادی کو سات سال ہوئے ہیں ،شادی سے پہلے جو کچھ کمایا وہ امی اور بہنوں پر خرچ کیا اور کچھ جمع نہیں کیا نہ کوئی جائیداد بنائی۔
سوالات:
(1) ابو نے جو گھر کیلئے BC شروع کی تھی جس کی صرف دو اقساط انہوں نے ادا کی تھیں اس BC کی باقی 18 مہینے کی اقساط دونوں بھائیوں نے دکان سے کما کر ادا کیں اور اس سے گھر خریدا ،اب سوال یہ ہے کہ کیا اس گھر میں بھی بہنوں اور امی کا شرعی حق ہے؟ جبکہ ابو کی زندگی میں جو فلیٹ تھا اس کے حصہ کردیے ہیں۔
(2) کاروبار دکان سے ختم کرکے دو سال پہلے دکان کو کرائے پر چڑھا دیا تھا (کیونکہ بک نہیں رہی تھی ) جس کے بعد دونون بھائیوں کا ذریعۂ معاش ختم ہوگیا اور انہوں نے گھر سے کام کرنا شروع کیا ،اب دو سال سے تمام ورثاء کو شرعی تقسیم کے حساب سے کرایہ مل رہا ہے ،کیا یہ طریقہ صحیح ہے ؟
(3) جب تک دکان پر دونوں بھائی تھے تب تک دکان سے سب کے اخراجات وہیں سے پورے ہوئے ہیں جس میں سے واضح کچھ یوں ہے: بہن کی شادی،میری شادی،دونوں بھائیوں مع والدہ کے گھر کے اخراجات ،ماہانہ خرچ بہنوں کا ،والدہ کو عمر ہ کروایا ان تما اخراجات کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟
(4) جس گھر میں ہم رہتے ہیں (دو بھائیوں کی فیملی اور والدہ) بہنیں اب اس کا بھی کرایہ مانگ رہی ہیں ،اس کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟
صورتِ مسؤلہ میں اگر والد کی وفات کے بعد تمام ورثاء کی باہمی رضامندی سے دونوں بھائی مذکور کاروبار چلا رہے تھے اور اسی دکان کی کمائی سے گھر خریدا گیا ہو تو مذکور مکان بھی ترکہ شمار ہوکر تمام ورثاء میں حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم ہوگا۔
جبکہ مذکور کاروبار سے جو اخراجات کیے گئےہیں اگروہ تمام ورثاء کی باہمی رضامندی سے کیے گئے ہوں تو اب ان اخراجات کو ترکہ سے منہا نہیں کیا جائے گا،البتہ جب تک مذکور دکان فروخت نہ ہو جائے تب تک اس سے حاصل ہونے والا کرایہ تمام ورثاء میں حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم ہو گا ،جہاں تک مذکور مکان میں دونوں بھائیوں کے رہائش کی وجہ سے بہنیں کرایہ کا مطالبہ کر رہی ہیں تو وہ اپنے مطالبہ میں حق بجانب ہیں اور باہمی رضامندی سے آپس میں کرایہ طے کرلیا جائے اور بہنوں کو ان کا شرعی حصہ دیا جائے البتہ پچھلےعرصہ کے کرایہ کا مطالبہ کرنا درست نہیں جس سے احتراز لازم ہے ۔
کما فی الھندیۃ: ولایجوز لاحدھما ان یتصرف فی نصیب الآخر الا بامرہ اھ (2/301)-
وفیہ ایضاً: واجمعوا انہ لو آجر من شریکہ یجوز سواء کان مشاعاً یحتمل القسمۃ او لا یحتمل وسواء اجر کل نصیبہ منہ او بعضہ کذا فی الخلاصۃ اھ (4/448)-
وفی درر الحکام فی شرح مجلۃ الاحکام: تقسم حاصلات الأموال المشتركة في شركة الملك بين أصحابها بنسبة حصصهم، يعني إذا كانت حصص الشريكين متساوية أي مشتركة مناصفة فتقسم بالتساوي وإذا لم تكن متساوية بأن يكون لأحدهما الثلث وللآخر الثلثان فتقسم الحاصلات على هذه النسبة؛ لأن نفقات هذه الأموال هي بنسبة حصصهما اھ (3/26)
وفیہ ایضاً : لو آجر الشركاء الحانوت المشترك بينهم لآخر فيجب تقسيم بدل الإيجار بينهم حسب حصصهم في الحانوت. فإذا شرط لأحدهم مقدارا أكثر من حصته لا يصح ۔۔۔ أما إذا سكن أحد صاحبي الدار المشتركة فيها بلا إذن الآخر مدة فيكون قد سكن في ملكه فلذلك لا يلزمه إعطاء أجرة لأجل حصة شريكه ۔۔۔ أما إذا حضر الشريك وطلب من شريكه الساكن الأجرة وسكن الشريك بعد ذلك فيلزم الشريك الساكن إعطاء الأجرة حيث إن السكنى بعد ذلك هي التزام للأجرة وقبول لها اھ (3/27)-
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2