جناب عالٰی:آپ سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ چند شرعی مسائل کے جواب فتوی کی صورت میں درکار ہیں، مہربانی فرما کر درج ذیل سوالات کے جوابات عنایت فرمائیں۔
1. بیوی کے انتقال کی صورت میں شوہر کا بیوی کی وراثت میں کیا تناسب ہے؟
2. ماں کے انتقال کے بعد وراثت کی تقسیم سے پہلے اگر بیٹے کا انتقال ہو جائے تو اُن کے بیٹے کے بچوں کا تناسب کیا ہے ۔ جزاک اللہ خیراً
بیوی کے انتقال کر جانے کی صورت میں اگر اسکی اولاد موجود ہو تو شوہر مرحومہ کے ترکہ میں ایک چوتھائی(25%)حصے کا حقدار ہوتا ہے اور اگر مرحومہ کی اولاد نہ ہو تو ایسی صورت میں شوہر کو ترکہ میں سے آدھا(50%)حصہ ملتا ہے،جبکہ ماں کے انتقال ہو جانے کے بعد اگر تقسیمِ ترکہ سے قبل اسکے بیٹے کا انتقال ہو جائےتو مرحوم بیٹے کو والدہ مرحومہ کے ترکے میں ملنے والا حصہ اسکے ورثاء(بیوی،بچوں)میں حسب حصص شرعی تقسیم ہوگا،جسکا تناسب اور طریقہ کار ورثاء کی تفصیل ذکر کرنے کے بعد معلوم کیا جاسکتا ہے۔
کما فی تفسير ابن كثير:}ولكم نصف ما ترك أزواجكم إن لم يكن لهن ولد فإن كان لهن ولد فلكم الربع مما تركن من بعد وصية يوصين بها أو دين ولهن الربع مما تركتم إن لم يكن لكم ولد فإن كان لكم ولد فلهن الثمن مما تركتم من بعد وصية توصون بها أو دين (الی قولہ) يقول تعالى: ولكم -أيها الرجال-نصف ما ترك أزواجكم إذا متن عن غير ولد، فإن كان لهن ولد فلكم الربع مما تركن من بعد]وصية[يوصين بها أو دين اھ(2/229)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2