السلام علیکم!
جائیداد کے شرعی مسئلہ میں رہنمائی درکار ہے، میرے والد کا ایک گھر ہے، جس کی قیمت ایک کروڑ تیس لاکھ ہے، والد اور والدہ کی وفات ہو گئی ہے، ہم چار( 4)بھائی اور ایک بہن ہیں، بہن کی وفات ہو گئی ، ان کی دو بیٹیاں ہیں،ہم چاروں بھائیوں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ بہن کی وفات کے بعد ان کے حصہ کی رقم اُنکی دو بیٹیوں میں تقسیم کر دیں،گویا چار(4)بھائی اور ایک بہن یہ حصہ دار ہوئے، اب کیا حصہ بنےگا رقم کا اس میں؟ آپکی شرعی رہنمائی درکار ہے ، نیز یہ کہ اگر میرے بھائی مان جاتے ہیں، والد اور والدہ کے گھر سے ملنے والے حصے کی رقم مسجد یا دیگر اسلامی کام میں خرچ کرنے پے، تو پھر کیا حصہ بنےگا؟شکریہ والسلام
نوٹ:سائل کی بہن کا انتقال والدین کے انتقال کے بعد ہوا،اور مرحومہ بہن کے شوہر کا پہلے انتقال ہو گیا تھا۔
سائل کے والدین مرحومین نے اگر کسی مسجد و مدرسہ و غیرہ کیلئے رقم دینے کی وصیت نہ کی ہوتو ایسی صورت میں شرعاً سائل اور اسکے بھائیوں کے ذمہ مسجد و مدرسہ وغیرہ کو رقم دینا لازم اور ضروری نہیں،البتہ اگر سائل اور اسکے بھائی باہمی رضامندی سے والدین کے ایصالِِ ثواب کیلئے ترکہ میں سے کچھ رقم مسجد و مدرسہ کو دینا چاہیں تو یہ بلا شبہ جائز اور درست ہوگا، تاہم اگر سائل کی بھانجیاں نابالغ ہوں یا وہ ہوں تو بالغ لیکن مسجد و مدرسہ و غیرہ کیلئے رقم دینے پر آمادہ نہ ہوں تو ایسی صورت میں سائل اور اس کے بھائیوں کے ذمہ بھانجیوں کے حصوں میں سے صدقہ کرنا جائز نہ ہوگا ، بلکہ انہیں انکے حصوں کی یا حصوں کی قیمت کی پوری رقم کی ادائیگی لازم اور ضروری ہو گی،اسکے بعد اگر سائل کے بھائی اپنے حصوں سے دینا چاہیں تو بلاشبہ دے سکتے ہیں۔
اسکے بعد واضح ہو کہ سائل کے والدین مرحومین کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق انکے مذکور ورثاء میں اس طرح تقسیم کیا جائے گا کہ مرحومین نے بوقتِ انتقال اپنی ذاتی ملکیت میں جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا، چاندی، زیورات، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز و سامان چھوڑا ہے، اس میں سب سے پہلے مرحومین کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں، اسکے بعد دیکھیں کہ مرحومین کے ذمہ کوئی قرض واجب الادا ہو تو اسکی ادئیگی کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومین نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی(3/1) حصے کی حد تک اس پر عمل کریں، اُسکے بعد جو کچھ بچ جائے اسکےکل ایک سو آٹھ(108) حصے بنائے جائیں،جن میں سے مرحومین کے ہر بیٹے کو پچیس(25)حصے اور ہر نواسی کو چار (4) حصے دیے جائیں -