السلام علیکم !
گزارش یہ ہے کہ میرے والد مرحوم ان کی چھ بیٹیاں اور دو بیٹے اور ایک بیوہ ہے، لیکن چھ بیٹیوں میں سے سب سے چھوٹی بیٹی حنا کا انتقال میرے والد صاحب کے انتقال سے 11 سال پہلے ہوچکا ہے اور میری بہن کی کوئی اولاد بھی نہیں ہے ، اس کی شادی کے دو سال بعد اس کا انتقال ہوگیا تھا ، یعنی 2003 میں اس کی شادی ہوئی تھی اور 2005 میں اس کا انتقال ہوگیا ، جبکہ میرے والد صاحب کا انتقال 2016 میں ہوا ، محترم سوال آپ سے یہ ہے کہ کیا میرے ابو کی جائیداد اور ان کے اثاثوں میں میری مرحومہ بہن کا کوئی حصہ نکلتا ہے ، جبکہ اس کے شوہر کا تعلق اب ہم سے نہیں ہے ، کیونکہ وہ غیر خاندان سے تھا اور دوسری میری بہن کی کوئی اولاد بھی نہیں کہ جس کی وجہ سے کوئی رابطہ یا تعلق ہوتا ، براہِ مہربانی شریعت کی رو سے اس مسئلہ کا حل بتا دیں، اللہ آپ کو جزائے خیر دے ۔
واضح ہوکہ سائلہ کی جس بہن کا انتقال سائلہ کے والد کی زندگی میں ہوگیا تھا ،اس کا یا اسکے خاوند کا والد مرحوم کی جائیداد اور ترکہ میں شرعا کوئی حصہ نہیں ،اور نہ ہی اس کا شوہر اس کے مطالبہ کا حقدار ہے ۔
اس کے بعد واضح ہو کہ سائلہ کے والد مرحوم کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق اس کے موجود ورثاء کے درمیان اس طرح تقسیم ہو گا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا، چاندی، زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھر یلو سازو سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ، اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ،اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کوئی واجب الادا قرض ہویا بیوہ کا حق مہر ادا نہ کیا ہو تو اس کی ادائیگی کریں ،اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3) کی حد تک اس پر عمل کریں، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے،اس کے بہتر(72) حصے بنائے جائیں ،جن میں سے مرحوم کی بیوہ کو نو(9) حصے ،مرحوم کے دونوں بیٹوں میں سے ہر ایک کو چودہ (14) حصے ،جبکہ مرحوم کی پانچوں بیٹیوں میں سے ہر ایک کو سات (7) حصے دیے جائیں -
وفی الشامیۃ: ان شرط الارث وجود الوارث حیا عند موت المورث۔(6/769)-