السلام علیکم!
سوال نمبر 1۔ جناب مفتی صاحب میرا تعلق ایک کاروباری گھرانے سے ہے، میرے تین بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں، سب کے سب شادی شدہ ہیں، میرے شوہر کے انتقال کو تقریباً پندرہ سال گزر چکے ہیں ، میرا مسئلہ یہ ہے کہ میرے شوہر کے انتقال کے بعد اُنکی تمام جائیداد کا شرعی طور پر بٹوارہ ہو گیا تھا ، سوائے ایک گھر کے جس میں, میں اور میرا بڑا بیٹا رہائش پذیر ہیں، اب مسئلہ یہ کہ میری تینوں بیٹیاں اور سب سے بڑا بیٹا جس کا نام طارق ہے وہ حیات ہیں، اور دونوں چھوٹے بیٹوں کی وفات ہو چکی ہے، بیٹا ساجد 11 دسمبر 2022 کو فوت ہوا ، جبکہ سب سے چھوٹا بیٹا عمیر 26 جولائی2023 کو خودکشی کرنے کی وجہ سے فوت ہوا، اب آپ مجھے شرعی طور پر بتا دیں کہ گھر میں موجود بیٹے اور بیٹیوں کا شرعی حصہ کتنا ہوگا ؟ مرحوم ساجد کی ایک ہی بیٹی ہے، اور مرنے سے ایک سال قبل وہ اپنی بیوی کو طلاق دے چکا تھا ، اور مرحوم عمیر کی ایک عدد بیوہ اور دو بچے موجود ہیں، ( ایک بیٹا اور ایک بیٹی) اب آپ رہنمائی فرمائیں کہ سب کا شرعی حساب سے کیا حصہ ہوگا اور اس گھر میں میرا کیا حصہ ہوگا ؟ اور گھر کی موجودہ مالیت تقریباً اڑھائی کروڑ ہے۔
سوال نمبر 2۔اب میرا دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ میرا درمیان والا بیٹا ساجد جو 11 دسمبر کو فوت ہوا ہے , مرنے سے ایک سال قبل اُس نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی تھی، طلاق کے بعد سابقہ بیوی نے بچی کو ہمیں دے دیا، جو اب میرے زیرِ پرورش ہے، اب ساجد کے مرنے کے بعد ہم نے معلوم کروایا تھا کہ اُسکا کوئی بیٹا نہ ہونے کی صورت میں آدھی جائیداد بیٹی کی، اور آدھی جو بقیہ بہن بھائی حیات ہیں , اُن میں تقسیم ہوگی، اس وقت مرحوم عمیربھی حیات تھا، میرے پانچوں بچوں نے مل کر یہ فیصلہ کیا کہ سب اپنی بھتیجی کو مل کر ہبہ کر دیں گے ، جو سب نے مل کر کر دی ، اب مسئلہ یہ ہے کہ میرا چھوٹا بیٹا مرحوم عمیر نے مرنے سے پہلے ایک خط لکھا تھا،جس میں واضح الفاظ میں لکھا تھا کہ میرے مرنے کے بعد مجھے میرے بھائی ساجد کی جائیداد میں سے حصہ چاہیئے جو جلد از جلد میرے بیوی بچوں کو دے دیا جائے ، اب آپ یہ بتائیے کہ اس تحریری نوٹ کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟ اوراس کےمطابق ساجد کی جائیداد میں سے کیا عمیر کے بیوی بچوں کا حصہ بنتا ہے؟ اور دوسرے بہن بھائیوں نے بھی جو ہبہ کیا تھا وہ صرف زبانی کلامی تھا ، مرحوم ساجدکی کل وراثت ایک دکان ،13 تولہ سونا ، اور 35 لاکھ نقدی ہیں۔
سوال نمبر3۔یہ ہے کہ میرا سب سے چھوٹا بیٹا عمیر جو 26 جولائی 2023 کو خود کشی کرنے سے فوت ہو گیا , اب مرنے سے پہلے اُس نے ایک خط لکھ کر چھوڑا تھا ، جس میں یہ بات شامل تھی کہ میر مرنے کے بعد میری تمام جائیداد میرے بیوی اور بچوں کو جلد از جلد دے دی جائے ، اب آپ مجھے یہ بتائیں کہ شرعی طور پر اُس خط کی کیا حیثیت ہے ؟ عمیر کی وراثت جو اُس نے چھوڑی ہے , اُس میں ایک گاڑی ، ایک عدد پستول ، دو دکانیں ، اور 35 فیصد کے حساب سے کاروبار میں کسی کے ساتھ لگایا ہوا ہے , جس کا سالانہ منافع ملتا ہے، آپ یہ رہنمائی فرمائیں کہ شرعی طور پر اسکی تقسیم کیا ہوگی؟ نیز عمیر کی بیوہ کا کیا حصہ بنے گا؟ عمیر کے بچوں کا کیا حصہ بنے گا؟ بیوہ ، ماں اور بہن بھائیوں کا کیا حصہ ہوگا ؟ مہربانی فرما کر میرے تینوں مسئلوں کے تفصیل سے اور علیحدہ علیحدہ جواب دے کر میرے مسئلے کو حل کر دیجئے، اور شریعت کے حساب سے حصے بھی بتا دیجیئے۔
نوٹ: مرحوم ساجدکے ورثاء میں والدہ، ایک بیٹی اور دو بھائی اور تین بہنیں موجود تھیں۔ پھر بیٹے عمیر کا انتقال ہوا ،جس کے ورثاء میں بیوہ، والدہ، ایک بیٹا اور ایک بیٹی حیات تھے۔نکاح میں ایک گھر بطور مہر دیا گیا تھا، جو شوہر نے کاروباری غرض سے یہ کہہ کر فروخت کر دیا کہ منافع ہوگا تو دوبارہ گھر بنا کر دے دو نگا ، اب والدہ یعنی زوجہ نے گھر کی صورت میں دیا گیا قرضہ معاف کر دیا ہے، چنانچہ یہ گھر تمام ورثاء میں تقسیم کیا جائے ، پھر جب سوال میں مذکور گھر خریدا تو یہ کہا کہ"میں نے یہ گھر تمہارے لئے بطور گفٹ خریدا ہے، البتہ ملکیت وغیرہ شوہر ہی کی تھی، اب بیوہ کے حق مہر اور مذکور گھر کے گفٹ ہونے کا کیا حکم ہے؟
واضح ہو کہ کوئی بھی چیزکسی کے فقط نام کر دینے سے اسکی ملکیت نہیں بن جاتی، بلکہ بدستور واہب کی ملکیت میں برقرار رہتی ہے، جب تک کہ اسے مالکانہ حقوق کیساتھ مالک و قابض نہ بنایا جائے ، چنانچہ صورتِ مسئولہ میں سائلہ کے شوہر نے اپنا مذکور مکان سائلہ کےفقط نام کیا ہو ، مالکانہ حقوق کیساتھ باقاعدہ قبضہ نہ دیا ہو تو ایسی صورت میں فقط نام کر دینے سے یہ ہبہ (گفٹ) تام نہیں ہوا ، اور سائلہ مذکور مکان کی مالکہ نہیں بنی، بلکہ مذکور مکان سائلہ کےشوہر کی ملکیت میں رہ کر اب انکے انتقال کے بعد دیگر ترکہ کی طرح انکے تمام ورثاء میں حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم ہوگا ، اسی طرح مرحوم ساجدکے بہن بھائیوں نے مرحوم ساجد کی بیٹی کو میراث سے ملنے والا اپنا حصہ فقط زبانی طور پر ہبہ کیا، مالکانہ حقوق کیساتھ مرحوم کی بیٹی کو مالک و قابض نہ بنایا ہو , تو یہ ہبہ (گفٹ) تام نہیں ہوا،بلکہ ورثاء اب بھی اپنے شرعی حصوں کے حقدار ہونگے۔
1) -اسکے بعد واضح ہو کہ سائلہ کے شوہر مرحوم کا ترکہ اصولِ میراث کےمطابق اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال مذکور مکان سمیت جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال و جائیداد، سونا، چاندی، زیورات، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے اس میں سے سب سے پہلے انکے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں، اسکے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کوئی واجب الادا قرض ہو ، تو اس کی ادائیگی کریں، اسکے بعد دیکھیں کہ اگرمرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو
بقیہ مال کے ایک تہائی (3/1) حصے کی حد تک اس پر عمل کریں، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل بہتر(72) حصے بنائے جائیں جن میں سے مرحوم کی بیوہ کو نو (9) حصے، تینوں بیٹوں میں سے ہر ایک کو چودہ (14) حصے، جبکہ تینوں بیٹیوں میں سے ہر ایک کو سات (7)حصے دیے جائیں جیساکہ ذیل کے نقشہ سے بھی واضح ہو رہا ہے، مزید سہولت کیلئے فیصدی حصےبھی لکھ دیے گئے ہیں ملاحظہ فرمائیں!
مسئلہ:8/72 شوہر المضروب:9
بیوہ بیٹا (ساجد) بیٹا (عمیر) بیٹا (طارق) بیٹی بیٹی بیٹی
1 7
9 63
14 14 14 7 7 7
12.5% 19.44% 19.44% 19.44% 9.72% 9.72% 9.72%
2)۔واضح ہو کہ مرحوم ساجد کو اپنے والد مرحوم کی وراثت سے ملنے والا حصہ اور اسکا اپنا ذاتی ترکہ اسکے موجودہ ورثاءمیں حقوقِ متقدمہ علی المیراث (کفن دفن کے متوسط مصارف ، واجب الادا قرضوں اور حق مہر کی ادائیگی، اور بقیہ مال کے ایک تہائی (3/1) حصے کی حد تک جائز وصیت پر عمل) کے بعداس طرح تقسیم ہوگا اس کے کل بیالیس(42) حصے بنائے جائیں جن میں سے مرحوم کی والدہ کوسات(7) حصے, بیٹی کواکیس(21) حصے، ہرایک بھائی کو چار(4) حصے، جبکہ ہر ایک بہن کو دو (2)حصے دیے جائیں جیساکہ ذیل کے نقشہ سے بھی واضح ہو رہا ہے، مزید سہولت کیلئے فیصدی حصے لکھ دیے گئے ہیں ملاحظہ فرمائیں!
مسئلہ:6/42 ساجد المضروب:7
میـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
والدہ بیٹی بھائی (عمیر) بھائی (طارق) بہن بہن بہن
1 3 2
7 21 14
4 4 2 2 2
16.66% 50% 9.523% 9.523% 4.761% 4.761% 4.761%
3)۔واضح ہو کہ مرحوم عمیر کو اپنے والد مرحوم اور بھائی ساجد مرحوم کی وراثت سے ملنے والا حصہ اور اسکا اپنا ذاتی ترکہ اسکے موجودہ ورثاء میں حقوقِ متقدمہ علی المیراث (کفن دفن کے متوسط مصارف ، واجب الادا قرضوں اور حق مہر کی ادائیگی، اور بقیہ مال ِکے ایک تہائی (3/1) حصے کی حد تک جائز وصیت پر عمل) کے بعداس طرح تقسیم ہوگا کہ اس کے کل بہتر(72) حصے بنائے جائیں جن میں سے مرحوم کی بیوہ کونو(9) حصے، والدہ کو بارہ (12) حصے ، بیٹے کو چونتیس(34) حصے، جبکہ بیٹی کو سترہ(17) حصےدیے جائیں جیساکہ ذیل کے نقشہ سے بھی واضح ہورہا ہے، مزید سہولت کیلئے فیصدی حصےبھی لکھ دیئے گئے ہیں ملاحظہ فرمائیں!
مسئلہ:24/72 عمیر المضروب:3
میــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بیوہ والدہ بیٹا بیٹی
3 4 17
9 12 51
34 17
12.5% 16.66% 47.22% 23.611%
کما فی الدر المختار : (و تتم) الھبة (بالقبض) الكامل (و لو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) و الأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامھا۔اھ (5/ 690)-
و فی رد المحتار : لو قال : جعلته باسمك ، لا يكون هبة۔اھ (5/ 689)-
و فی التاتارخانیۃ : لایجوز للرجل ان یھب لامرتہ و ان تھب لزوجھا او لاجنبی دارا و ھما فیھا ساکنان و کذالک الھبۃ لان ید الواھب ثابتۃ علیہ۔اھ (14/431)-
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2