بخدمت جناب مفتی صاحب !السلام علیکم !گذارش عرض یہ ہیکہ میرے والد صاحب نے دو شادیاں کی تھیں، میرے والد اور والدہ دونوں کی وفات ہو چکی ہے ،پہلے میری والدہ کا انتقال ہوا تھا ،بعد میں والد صاحب کا ،جبکہ دوسری والدہ حیات ہیں ، اور ان کے دو بچے ہیں ، ایک بیٹا اور ایک بیٹی ، جبکہ میں اپنی والدہ کی اکلوتی اولاد ہوں، میرے والد صاحب کی پراپرٹی میں اسی (80) گز کا گھر ہے ، مکان کی چوڑائی 28 فٹ ہے ، اس حساب سے میرے حصے میں کتنا فٹ ہوگا۔
براہ کرم : قرآن و سنت کی روشنی میں میری رہنمائی فرمائیں، تاکہ مجھ سے کوئی غلطی سرزد نہ ہو، شکریہ۔
سائل کے مرحوم والد کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق ان کے موجود ورثاء میں اس طرح تقسیم ہو گا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال مذکور گھر سمیت جو کچھ منقولہ و غیر منقوله مال و جائیداد ، سونا، چاندی، زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھر یلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے، اس میں بالترتیب حقوق ِمتقدم علی المیراث (کفن دفن کے متوسط مصارف ، واجب الادا قرضوں اور حق مہر کی ادائیگی ، اور بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3) حصے کی حد تک جائز وصیت پر عمل) کے بعد جو کچھ بچ جائے ،اس کے ٹوٹل (32) حصے بنائے جائیں ، جن میں سے مرحوم کی بیوہ کو چار (4) حصے ، ہر بیٹے کو چودہ (14) حصے ،اور بیٹی کو سات حصے دیئے جائیں۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2