السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ
محترم جناب مفتی صاحب ! میرے شوہر کا 6 سال پہلے انتقال ہوا , میں عدت اپنے شوہر کے گھر پوری کررہی تھی , اس دوران میرے بھائیوں نے میرے والد کے مکان کو بیچا اور دوسری جگہ اس رقم سے پلاٹ لینے کے بعد دو بھائیوں اور ایک بہن نے مزید رقم ملا کر اسکی تعمیر کی , اسکے علاوہ دوسری بہن کو اسوقت حصہ کی رقم ادا کردی گئی اور مجھے کہا کہ تمہیں بعد میں رقم دے دیں گے۔
سوال 1. کیا مجھے وہی 6 سال پرانی رقم لینی ہے یا جیسا کہ میں نے آپ کو بتایا کہ اس رقم سے انہوں نے پلاٹ لیا تھا اور بعد میں تینوں نے ملکر رقم لگا کر تعمیر کی اور رہائش اختیار کی -
سوال 2. کیا اس وقت مجھے اس نۓ پلاٹ کی موجودہ قیمت کے حساب سے رقم لینی ہے ؟
براۓ مہربانی مفتی صاحب ! قرآن و حدیث کی روشنی میں میرے سوالوں کا جواب دیں شکریہ۔
نوٹ : بھائیوں نے سائلہ سے والد کا مکان فروخت کرنے کیلئے سائن لے لیے تھے ،اور اسے یہ بتا دیا گیا تھا ،کہ ہم کمیٹیاں ڈال کر آپ کو آپ کے حصے کی رقم دیدیں گے ۔
جبکہ نئے پلاٹ کی خریداری اور اس کی تعمیر میں سائلہ کی کوئی شرکت نہیں تھی ۔
صورتِ مسئولہ میں اگر سائل کے بھائیوں نے تمام ورثاء کی اجازت و رضامندی سے ترکہ کا گھر فروخت کرکے اس میں سائلہ اور اس کی بہن کا شرعی حصہ متعین کردیا ہو ،اور بہن کے حصے کی رقم ادا کرنے کے بعد سائلہ سے اس کے حصہ کی رقم کی ادائیگی کیلئے وقت مانگا ہو ، جس پر سائلہ نے بھی آمادگی ظاہر کی ہو ،تو اس کے بعد سائلہ کا بعد میں خریدے گئے پلاٹ یا اس کی تعمیر سے شرعاً کوئی تعلق نہیں،بلکہ مکان فروخت کرنے کے بعد اس کے حصۂ شرعی کے طور پر جو رقم متعین کردی گئی تھی ،اب بھی وہی رقم لینے کی حقدار ہوگی ۔
تاہم اگر سوال کی نوعیت کچھ اور ہو , تو کسی قریبی دارالافتاء میں حاضر ہوکر پوری صورتحال بیان کرنے کے بعد حکمِ شرعی معلوم کرے ۔
کما فی درر الحکام :(شركة الملك هي كون الشيء مشتركا بين أكثر من واحد أي مخصوصا بهم بسبب من أسباب التملك كالاشتراء و الاتهاب و قبول الوصية و التوارث أو بخلط ، اھ(3/15)۔
و فیہ ایضاً :(تقسيم حاصلات الأموال المشتركة في شركة الملك بين أصحابهم بنسبة حصصهم . اھ (3/26)۔
و فیہ ایضاً : (كل واحد من الشركاء في شركة الملك أجنبي في حصة الآخر و لا يعتبر أحد وكيلا عن الآخر فلذلك لا يجوز تصرف أحدهما في حصة الآخر بدون إذنه-
و فیہ ایضاً : لا يجوز لأحد أن يتصرف في ملك الغير بلا إذنه هذه المادة مأخوذة من المسألة الفقهية (لا يجوز لأحد التصرف في مال غيره بلا إذنه ولا ولايته) الواردة في الدر المختار . اھ(1/96)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2