السلام علیکم!
حضرت آپ سے ایک مسئلہ کا فتویٰ درکار ہے ، میرے دادا کے تین بیٹے تھے میرے والد سمیت ،میرے دادا مرحوم کافی پیسے والے تھے پراپرٹی کے علاوہ ایک اچھا چلتا ہوا لیتھ مشینوں کا ورکشاپ بھی تھا جہاں بڑی فیکٹریوں کی مشینوں کے پارٹس بنائے جاتے تھے, میرے والد سب سے بڑی اولاد تھے, سب سے چھوٹے چچا کم عمری میں ہی امریکہ پڑھنے چلے گئے تھے اور کافی عرصے تک گھر سے بھاری مقدارمیں پیسے منگاتے رہے, والد صاحب شادی شدہ اور صاحبِ اولاد تھے, درمیان والے چچا بھی شادی شدہ اور صاحبِ اولاد تھے ,اس لئے میرے والد نے دادا کے گھر کے قریب ہی الگ گھر کرایہ پر لے لیا،میرے والد نے" ایم اے ایل ایل بی "کیا ہوا تھا ،وہ ورکشاپ پر کام کرنا پسند نہیں کرتے تھے وہ ایک کمپنی میں ملازمت کرتے تھے، درمیانے والے چچا دادا کے ساتھ ورکشاپ جاتے تھے، وقت کے ساتھ ساتھ دادا کمزور اور بیمار ہوتے گئے اور آخرکار سارا کاروبار چچا کے ہاتھ میں آگیا، کیونکہ دادا اور دادی چچا کےساتھ رہتے تھے تو دونوں کی دیکھ بھال چچا نے کی , مثلاً ہسپتال لانا لیجانا اور دوا دارو وغیرہ ، میرے والد بھی کرتے تھے مگر زیادہ چچا نے کی , شاید میرے والد تنگدستی کی وجہ سے زیادہ خرچہ کرنہیں پاتے تھے( واللہ اعلم)، دادا اور دادی کچھ عرصہ بعد انتقال کر گئے، سب سے چھوٹے چچا جائیداد سے دستبردار ہو گئے , اب صرف میرے والد اور درمیانے چچا رہ گئے , مگر چچا نے میرے والد کو کسی جائیداد یا کاروبار میں سے حصہ نہیں دیا , جسکا والد کو بہت رنج رہا ، کیونکہ والد کی پانچ بیٹیاں اور ایک بیٹا تھا اور اُنکا شرعی حق بھی تھا، والد کا 1977 میں سعودیہ میں انتقال ہو گیا , پھر بھی چچا نے حصے کی کوئی بات نہیں کی , اب یہ ہے کہ تین سال پہلے میری والدہ اور دو سال پہلے چچا کا بھی انتقال ہو چکا ہے، دادا کے اُس ورکشاپ سے کما کر چچا نے مزید جائیدادیں خرید لی تھیں , اُنہی میں سے ایک پلاٹ پر ایک بیٹے کو پٹرول پمپ بنا دیا اور دوسرا بیٹا وہی دادا والا ورکشاپ چلاتا ہے اور اسکے علاوہ بھی اور کاروبار اور جائیدادیں ہیں مگر یہ سب بنا صرف دادا کے ورکشاپ سے ہی ہے، میری والدہ یا بہنوں نے جب بھی چچا سے اس بارے میں بات کرنی چاہی تو وہ ہمیشہ چیخنے چلانے لگتے تھے تو ہم لوگ ڈر کے مارے چپ ہو جاتے تھے پھر والدہ نے بولا کہ رشتہ داری زیادہ اہم ہے اسلئے ہم چپ رہے مگر اب بات یہ ہے کہ ہم بہن بھائی کو بھی ضرورت ہے , اسلئے آپ سے التماس ہے کہ برائے مہربانی ہماری رہنمائی فرمائیں -
نوٹ: کیا میں دادا کی وراثت میں سے صرف اپنے حصے کا مطالبہ کر سکتا ہوں، میری بہنیں اپنا اپنا مطالبہ خود کرلیں اپنی سہولت سے؟ جزاک اللہ خیراً
سائل کے والد مرحوم کا انتقال چونکہ اپنے والدین مرحومین کے انتقال کے بعد ہو اہے ،اس لئے وہ شرعاً اپنے والدین کے ترکے میں حصہ دار تھا ، اب انتقال کے بعد اس کی اولاد اپنے والد مرحوم کے توسط سے داد ا،دادی مرحومین کے ترکے میں شرعاًحصہ دار ہونگے ، لہذا سائل اور اس کی بہنوں کیلئے اپنے دادا مرحوم کے ترکے کی حد تک اپنے چچا زاد بھائیوں سے حصے کا مطالبہ کرنا بلاشبہ جائز اور درست ہوگا، تاہم ترکے کی تفصیل ،اس کی تقسیم کے طریقہ کا ر وغیر ہ دیگر مسائل کے متعلق فریقین کو چاہیئے کہ کسی قریبی مستند دار الافتاء میں حاضر ہو کر ، وہاں موجود مفتیانِِ کرام کے سامنے مکمل وضاحت کرکے ان سے حکمِ شرعی معلوم کریں ۔
فی ردالمحتار : هي مفاعلة من النسخ بمعنى النقل و التحويل و المراد بها هنا أن ينتقل نصيب بعض الورثة بموته قبل القسمة إلى من يرث منه (6/801)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2