السلام علیکم ! میرے والدین کا گھر تھا، والدین کے انتقال کے بعد دو بھائی تھے، والدین نے زندگی میں کہا تھا کہ دونوں بھائیوں کا آدھا آدھا گھر ہے، لیکن کوئی کاغذی کارروائی نہیں ہوئی تھی، چھوٹے بھائی نے اپنا ذاتی گھر بنا لیا تھا اور وہ اپنی بیوی اور بیٹی کے ساتھ وہاں چلے گئے تھے، جب کہ بڑے بھائی اپنی بیوی کے ساتھ اسی گھر میں رہ رہے تھے، انکی اولاد نہیں تھی، چھوٹے بھائی کا انتقال ہو گیا تو اس کی بیوی نے اپنی بیٹی کےحق کا مطالبہ کیا تو میں نے وہ گھر خرید لیا اور چھوٹے بھائی مرحوم کی بیٹی کو اس کا حصّہ دیدیا اور بڑے بھائی جو کہ اسی گھر میں رہ رہے تھے، ان سے کہا کہ وہ اسی گھر میں رہتے رہیں، کیوں کہ وہ اور ان کی بیوی کہیں اور نہیں جانا چاہتے تھے اور ان میں اتنی صلاحیت بھی نہیں تھی کہ وہ پیسہ محفوظ کرتے یا اپنا کوئی دوسرا گھر لے لیتے، پھر انہوں نے اور انکی بیوی نے اپنی مرضی سے وہ گھر میرے نام کردیا کہ ان کی اولاد بھی نہیں تو ان کے مرنے کے بعد انکا حصّہ میں لے لوں، ان کے گھر کے کاموں میں میں نے اپنے چھ لاکھ بھی لگائے، اب بڑے بھائی کا بھی انتقال ہوگیا ہے اور ان کی بیوی اپنے بھائی کے گھر چلی گئی ہے، آپ سے یہ سوال پوچھنا ہے کہ اب اس گھر میں بھائی کی بیوہ کا حصّہ ہے یا نہیں؟ اور اب تمام بہن بھائیوں میں، میں حیات ہوں تو میرا حصّہ شرعی لحاظ سے کیا بنتا ہے؟ اور میں ہی وه بہن ہوں جس نے گھر خریدا اور بھائی بھابھی نے گھر میرے نام کردیا تھا اور کاغذی کاروائی بھی ہو چکی تھی، براہِ مہربانی اس کا جواب دے دیجئے ۔جزاک اللہ خیراً
صورتِ مسؤلہ میں اگر سائلہ کے والد مرحوم نے مذکور مکان اپنے دو بیٹوں کے فقط نام کیا ہو، باقاعدہ مالکانہ حقوق کے ساتھ ان کے قبضہ میں نہ دیا ہوتو ایسی صورت میں سائلہ کے دونوں بھائی مذکور مکان کے شرعاً مالک نہیں بنے ، بلکہ یہ مکان حسبِ سابق سائلہ کے والد مرحوم کی ملکیت میں رہ کر ان کے انتقال کی صورت میں تینوں ورثاء (سائلہ اور اس کے دونوں بھائیوں )کے درمیان حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم ہوگا، تاہم اگر سائلہ نے مذکور پورا مکان باہمی رضامندی سے ورثاء سے خرید لیا ہو تو مذکور مکان اب سائلہ کی ملکیت ہے ، البتہ مذکور مکان کی حاصل شدہ قیمت مرحوم والد کا ترکہ شمار ہوگا اور یہ رقم سائلہ اور اس کے دونوں بھائیوں کے درمیان حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم ہوگی اور ان دونوں کو ملنے والا شرعی حصہ ان کے اپنے ورثاء یعنی بیواؤں ،بیٹی اور سائلہ کے درمیان تقسیم ہوگا۔
اس کے بعد واضح ہوکہ سائلہ کے والدِ مرحوم کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق اس کے موجود ورثاء کے درمیان حسبِ حصصِ شرعیہ اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال مذکور مکان سمیت جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال ُ و جائیداد ، سونا، چاندی، زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھر یلو سازو سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ، اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ،اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کوئی واجبُ الادا قرض ہو تو اس کی ادائیگی کریں ،اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز و صیت کی ہو تو بقیہ مال کےایک تہائی (3/1) کی حد تک اس پر عمل کریں، اس کے بعد جو کچھ بچ جائےاس کےکل چالیس (40) حصے بنائے جائیں ، جن میں سے مرحوم کی بیٹی (سائلہ ) کوپچیس (25) حصے، مرحوم کی بہو (بڑے بیٹے کی بیوہ ) کو پانچ (5) حصے ،مرحوم کی بہو (مرحوم کے چھوٹے بیٹے کی بیوہ ) کو دو (2) حصے ،جبکہ مرحوم کی پوتی کو آٹھ (8) حصے دیے جائیں -
کما فی شرح المجلة : شرکۃ الملک ھی کون الشیء مشترکا بین اکثر من واحد ای مخصوصاً بھم بسبب من اسباب التملک کالاشتراء و الاتھاب و قبول الوصیۃ و التوارث او بخلط (الیٰ قولہ) تقسیم حاصلات الاموال المشترکۃ فی شرکۃ الملک بین اصحابھم بنسبۃ حصصھم اھ (ص/204)۔
و فی الھندیة: و في المنتقى عن أبي يوسف - رحمه الله تعالى - لا يجوز للرجل أن يهب لامرأته و لا أن تهب لزوجها أو لأجنبي دارا و هما فيها ساكنان، وكذلك للولد الكبير، كذا في الذخيرة اھ(4/380)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2