احکام وراثت

ایک بیٹی، ایک پوتی اور دو بہوؤں میں میراث کی تقسیم

فتوی نمبر :
66789
| تاریخ :
0000-00-00
معاملات / ترکات / احکام وراثت

ایک بیٹی، ایک پوتی اور دو بہوؤں میں میراث کی تقسیم

السلام علیکم ! میرے والدین کا گھر تھا، والدین کے انتقال کے بعد دو بھائی تھے، والدین نے زندگی میں کہا تھا کہ دونوں بھائیوں کا آدھا آدھا گھر ہے، لیکن کوئی کاغذی کارروائی نہیں ہوئی تھی، چھوٹے بھائی نے اپنا ذاتی گھر بنا لیا تھا اور وہ اپنی بیوی اور بیٹی کے ساتھ وہاں چلے گئے تھے، جب کہ بڑے بھائی اپنی بیوی کے ساتھ اسی گھر میں رہ رہے تھے، انکی اولاد نہیں تھی، چھوٹے بھائی کا انتقال ہو گیا تو اس کی بیوی نے اپنی بیٹی کےحق کا مطالبہ کیا تو میں نے وہ گھر خرید لیا اور چھوٹے بھائی مرحوم کی بیٹی کو اس کا حصّہ دیدیا اور بڑے بھائی جو کہ اسی گھر میں رہ رہے تھے، ان سے کہا کہ وہ اسی گھر میں رہتے رہیں، کیوں کہ وہ اور ان کی بیوی کہیں اور نہیں جانا چاہتے تھے اور ان میں اتنی صلاحیت بھی نہیں تھی کہ وہ پیسہ محفوظ کرتے یا اپنا کوئی دوسرا گھر لے لیتے، پھر انہوں نے اور انکی بیوی نے اپنی مرضی سے وہ گھر میرے نام کردیا کہ ان کی اولاد بھی نہیں تو ان کے مرنے کے بعد انکا حصّہ میں لے لوں، ان کے گھر کے کاموں میں میں نے اپنے چھ لاکھ بھی لگائے، اب بڑے بھائی کا بھی انتقال ہوگیا ہے اور ان کی بیوی اپنے بھائی کے گھر چلی گئی ہے، آپ سے یہ سوال پوچھنا ہے کہ اب اس گھر میں بھائی کی بیوہ کا حصّہ ہے یا نہیں؟ اور اب تمام بہن بھائیوں میں، میں حیات ہوں تو میرا حصّہ شرعی لحاظ سے کیا بنتا ہے؟ اور میں ہی وه بہن ہوں جس نے گھر خریدا اور بھائی بھابھی نے گھر میرے نام کردیا تھا اور کاغذی کاروائی بھی ہو چکی تھی، براہِ مہربانی اس کا جواب دے دیجئے ۔جزاک اللہ خیراً

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسؤلہ میں اگر سائلہ کے والد مرحوم نے مذکور مکان اپنے دو بیٹوں کے فقط نام کیا ہو، باقاعدہ مالکانہ حقوق کے ساتھ ان کے قبضہ میں نہ دیا ہوتو ایسی صورت میں سائلہ کے دونوں بھائی مذکور مکان کے شرعاً مالک نہیں بنے ، بلکہ یہ مکان حسبِ سابق سائلہ کے والد مرحوم کی ملکیت میں رہ کر ان کے انتقال کی صورت میں تینوں ورثاء (سائلہ اور اس کے دونوں بھائیوں )کے درمیان حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم ہوگا، تاہم اگر سائلہ نے مذکور پورا مکان باہمی رضامندی سے ورثاء سے خرید لیا ہو تو مذکور مکان اب سائلہ کی ملکیت ہے ، البتہ مذکور مکان کی حاصل شدہ قیمت مرحوم والد کا ترکہ شمار ہوگا اور یہ رقم سائلہ اور اس کے دونوں بھائیوں کے درمیان حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم ہوگی اور ان دونوں کو ملنے والا شرعی حصہ ان کے اپنے ورثاء یعنی بیواؤں ،بیٹی اور سائلہ کے درمیان تقسیم ہوگا۔
اس کے بعد واضح ہوکہ سائلہ کے والدِ مرحوم کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق اس کے موجود ورثاء کے درمیان حسبِ حصصِ شرعیہ اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال مذکور مکان سمیت جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال ُ و جائیداد ، سونا، چاندی، زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھر یلو سازو سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ، اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ،اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کوئی واجبُ الادا قرض ہو تو اس کی ادائیگی کریں ،اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز و صیت کی ہو تو بقیہ مال کےایک تہائی (3/1) کی حد تک اس پر عمل کریں، اس کے بعد جو کچھ بچ جائےاس کےکل چالیس (40) حصے بنائے جائیں ، جن میں سے مرحوم کی بیٹی (سائلہ ) کوپچیس (25) حصے، مرحوم کی بہو (بڑے بیٹے کی بیوہ ) کو پانچ (5) حصے ،مرحوم کی بہو (مرحوم کے چھوٹے بیٹے کی بیوہ ) کو دو (2) حصے ،جبکہ مرحوم کی پوتی کو آٹھ (8) حصے دیے جائیں -

مأخَذُ الفَتوی

کما فی شرح المجلة : شرکۃ الملک ھی کون الشیء مشترکا بین اکثر من واحد ای مخصوصاً بھم بسبب من اسباب التملک کالاشتراء و الاتھاب و قبول الوصیۃ و التوارث او بخلط (الیٰ قولہ) تقسیم حاصلات الاموال المشترکۃ فی شرکۃ الملک بین اصحابھم بنسبۃ حصصھم اھ (ص/204)۔
و فی الھندیة: و في المنتقى عن أبي يوسف - رحمه الله تعالى - لا يجوز للرجل أن يهب لامرأته و لا أن تهب لزوجها أو لأجنبي دارا و هما فيها ساكنان، وكذلك للولد الكبير، كذا في الذخيرة اھ(4/380)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 66789کی تصدیق کریں
0     957
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • وراثت کی تقسیم کا شرعی طریقہ کار

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 6
  • باپ کی جائیداد میں اولاد کا حصہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 3
  • کسی وارث کا اپنا حصہ میراث معاف کرنے کا طریقہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 3
  • بھائیوں کا مرحوم والد کے ترکہ میں سے بہن کو حصہ نہ دینا

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 1
  • وفات کے بعد ملنے والی پینشن اورگریجویٹی کاحکم

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • ورثے میں انشورنس کمپنی سے پیسے ملیں تو ان کا کیا حکم ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • یتیم پوتوں کو دادا کی جائیدا میں حصہ کیوں نہیں ملتا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • وراثت کی تقیسم میں بلا وجہ تاخیر کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • بیٹوں کو ہبہ کردہ حصے میں بیٹیوں کا بعد از وفات حصہ مانگنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • نافرمان بیٹے کو جائیداد سے محروم کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • بیٹوں کے نام کی گئی زمین میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بیوہ ،سات بیٹوں اور تین بیٹیوں میں ترکے کی تقسیم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بہنوں کا میراث میں حصہ اور اپنا حصہ معاف کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکے کے مکان سے کرایہ کی مد میں حاصل شدہ رقم میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بڑے بیٹے کی کمائی میں , باپ کے انتقال کے بعد وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء=بیوہ,والد,والدہ,ایک بیٹا ایک بیٹی)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = 3 بیٹے 1 بیٹی 1 بہو 1 پوتا)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = ایک بیوہ ,دو بیٹے, ایک بیٹی, پانچ بھائی, پانچ بہنیں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بیٹے کی ذاتی کمائی میں وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • بھائی کی موجودگی میں مرحومہ بہن کے ترکے میں بہن حصہ دار ہوگی یا نہیں ؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء =بیوہ, 2 بھائی 1 بہن)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • زندگی میں تقیسم جائیداد کا حکم اور طریقہ

    یونیکوڈ   انگلش   احکام وراثت 0
Related Topics متعلقه موضوعات