احکام وراثت

بہنوں کا اپنے حصص کی وصولی کے لئے مکان فروخت کرنے کا مطالبہ کرنا

فتوی نمبر :
66716
| تاریخ :
معاملات / ترکات / احکام وراثت

بہنوں کا اپنے حصص کی وصولی کے لئے مکان فروخت کرنے کا مطالبہ کرنا

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص جس کا انتقال ہو گیا، اور اس کی بیوی کا انتقال اس شخص کے انتقال سے پہلے ہو چکا تھا ، ورثاء میں چھ (6)بیٹیاں ،اور تین بیٹے ہیں ، اس کے علاوہ ایک بیٹی اور بھی تھی جو کہ والدین سے پہلے انتقال کر گئی، چھ بیٹیوں میں سے ایک بیٹی کنواری ،جبکہ پانچ شادی شدہ ہیں، جبکہ تینوں بیٹے شادی شدہ ہیں، معلوم یہ کرنا تھا کہ :
(1) :ترکے میں صرف مکان ہی شامل ہوتا ہے؟ یا دیگر اشیاء جیسے زیور و غیرہ بھی شامل ہیں؟
(2): مکان کی تعمیر میں ایک بیٹے نے 750000 ساڑھے سات لاکھ، د وسرے نے 500000 پانچ لاکھ،اور ایک بیٹی نے250000 ڈھائی لاکھ حصہ ملایا تھا ،جبکہ اور بیٹے اور بیٹیاں حصہ نہ ملا سکے ،ان بچوں کو انکی لگائی ہوئی رقم واپس ملے گی ، یا نہیں ؟
(3) :مکان کی رقم بیٹے اور بیٹیوں میں کس تناسب سے تقسیم کی جائے گی؟ جبکہ اس میں بھائی رہائش پذیر ہیں ، اور بہنیں مکان کو بیچ کر اپنا حصہ لینا چاہتی ہیں۔
(4): اگر مکان والد کے بجائے والدہ کے نام ہو تو ترکہ کی تقسیم کا تناسب کیا ہوگا؟
(5) :مکان کے بیچنے کے بعد کیا وفات شدہ بہن کا بھی حصہ دینا ہوگا؟
(6):اگر کوئی وارث وراثت میں حق تلفی کا مرتکب ہو تو حدیث ِنبویﷺ کی روشنی میں اس پر کیا وعید ہے؟
نوٹ : مکان تعمیر کرتے وقت دو بھائیوں اور ایک بہن نے جو پیسے لگائے تھے، اس کے متعلق تمام بہن بھائیوں اور والدہ کو بتایا تھا کہ مکان فروخت ہونے پر تعمیر پر آنے والے اخراجات وصول کریں گئے، جبکہ والد صاحب دماغی معذور تھے، اس لئے ان سے اجازت نہیں لی، ورثاء میں چھ بیٹیاں ،اور تین بیٹے موجود ہیں ، دادا، دادی، نانا، نانی کا انتقال بہت پہلے ہو چکا ہے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

(1) بوقتِ انتقال مرحوم کی ملکیت میں جو کچھ موجود ہوتا ہے ،خواہ وہ مکان کی صورت میں ہو یا نقدی ، زیورات اور گھریلو سامان وغیرہ کی صورت میں وہ سارا کا سارا مرحوم کا ترکہ شمار ہوتا ہے ،جو کہ اصولِ میراث کے مطابق مرحوم کے ورثاء میں تقسیم ہو گا ۔
(2)سوال میں یہ صراحت موجود نہیں کہ مذکور مکان کی پوری تعمیر سائل کے مذکور دو بھائیوں اور ایک بہن نے کی یا اس میں کسی اور کی کوئی رقم شامل تھی ؟ اگر کسی اور کی رقم شامل تھی تو کس نے کتنی رقم ملائی تھی ؟ نیزسوال میں یہ صراحت بھی موجود نہیں کہ یہ تعمیر ان بھائیوں اور بہن نے اپنے لئے کی تھی؟ یا مشترکہ مقاصد کے لئے کی تھی؟ لہذا اس معاملے کی مکمل نوعیت واضح ہونے کے بعد ان شاء اللہ اس سوال کا جواب دیا جائے گا۔
(3) سائل کے والدین مرحومین کی وفات کے بعد چونکہ مکان میں سب بہن بھائیوں کا حق ہے ،اس لئے بھائیوں کیلئے بہنوں کی اجازت ور ضامندی کے بغیر مکان کو اپنے استعمال میں لانا درست نہیں ، بلکہ بہنوں کے مطالبے پر انہیں ان کا حصہ دینا لازم ہے ، تاہم مذکور مکان بھی دیگر ترکے کی طرح تمام بہن بھائیوں کے درمیان حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم کیا جائے گا ( جسکی تفصیل ذیل میں آرہی ہے)۔
(4) مکان خواہ سائل کے والد مرحوم کے نام اور ملکیت ہو، یا والدہ مرحوم کے ،لیکن چونکہ دونوں کا انتقال ہو چکا ہے، اور دونوں کے ورثاء بھی مشترک ہیں، اس لئے مکان کی تقسیم کا تناسب برابر ہوگا۔
(5) سائل کی بہن مرحومہ کا انتقال چونکہ والدین مرحومین کی زندگی میں ہوا ہے، اس لئے شرعاً وہ والدین مرحومین کے ترکے میں حصہ دار نہ ہوگی، البتہ اگر مرحومہ بہن کی اولاد موجود ہو، اور سائل اور اسکے دیگر بہن بھائی اپنی مرضی سے مرحوم بہن کی اولاد کو کچھ دینا چاہیں، تو اس کا انہیں اختیار ہے۔
(6) کسی وارث کیلئے مرحوم کے ترکے پر قبضہ جما کر دوسرے ورثاء کو ان کا حق نہ دینا ظلم و غصب پر مبنی عمل ہونے کیوجہ سے ناجائز اور حرام ہے ، احادیثِ ِمبارکہ میں اس پر سخت قسم کی وعیدیں وارد ہوئی ہیں ، چنانچہ ایک روایت میں آتا ہے کہ جو کسی کی ایک بالش زمین ناحق قبضہ کر لےتو قیامت کے دن وہ سات زمینوں کا طوق بنا کر اسکی گردن میں ڈالا جائے گا، لہذا ورثاء کو ایک دوسرے کی حق تلفی سے اجتناب لازم ہے-
اس کے بعد واضح ہو کہ مذکور شخص کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق اس کے موجود ورثاء میں اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال مذکور مکان سمیت جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد، سونا، چاندی، زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے، وہ سب مرحوم کا ترکہ ہے ،اس میں سے پہلے بالترتیب حقوقِ متقدمہ علی المیراث (کفن دفن کے متوسط مصارف، واجب الادا قرضوں کی ادائیگی، اور بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3) حصے کی حد تک جائز وصیت پر عمل کے بعد جو کچھ بچ جائے ، اس کے کل بارہ (12) حصے بنائے جائیں ، جن میں سے مرحوم کے ہر بیٹے کو دو (2) حصے، اور ہربیٹی کو ایک (1) حصہ دیا جائے -

مأخَذُ الفَتوی

کمافي صحيح البخاري:عن سعيد بن زيد بن عمر و بن نفیل أنه خاصمته أروى فى حق زعمت أنه انتقصه لها إلى مروان فقال سعيد أنا أنتقص من حقها شيئاً، أشهد لسمعت رسول الله صلى الله عليه یقول:من أخذ شبراً من الأرض ظلماً فانه یطوقہ يوم القيامة من سبع أرضين " (3198) -

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حماد منظور عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 66716کی تصدیق کریں
| | |
0     1300
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • وراثت کی تقسیم کا شرعی طریقہ کار

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 6
  • باپ کی جائیداد میں اولاد کا حصہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 3
  • کسی وارث کا اپنا حصہ میراث معاف کرنے کا طریقہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 3
  • بھائیوں کا مرحوم والد کے ترکہ میں سے بہن کو حصہ نہ دینا

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 1
  • وفات کے بعد ملنے والی پینشن اورگریجویٹی کاحکم

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • ورثے میں انشورنس کمپنی سے پیسے ملیں تو ان کا کیا حکم ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • یتیم پوتوں کو دادا کی جائیدا میں حصہ کیوں نہیں ملتا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • وراثت کی تقیسم میں بلا وجہ تاخیر کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • بیٹوں کو ہبہ کردہ حصے میں بیٹیوں کا بعد از وفات حصہ مانگنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • نافرمان بیٹے کو جائیداد سے محروم کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • بیٹوں کے نام کی گئی زمین میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بیوہ ،سات بیٹوں اور تین بیٹیوں میں ترکے کی تقسیم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکے کے مکان سے کرایہ کی مد میں حاصل شدہ رقم میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بہنوں کا میراث میں حصہ اور اپنا حصہ معاف کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بڑے بیٹے کی کمائی میں , باپ کے انتقال کے بعد وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء=بیوہ,والد,والدہ,ایک بیٹا ایک بیٹی)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = 3 بیٹے 1 بیٹی 1 بہو 1 پوتا)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = ایک بیوہ ,دو بیٹے, ایک بیٹی, پانچ بھائی, پانچ بہنیں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بیٹے کی ذاتی کمائی میں وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • بھائی کی موجودگی میں مرحومہ بہن کے ترکے میں بہن حصہ دار ہوگی یا نہیں ؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء =بیوہ, 2 بھائی 1 بہن)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • زندگی میں تقیسم جائیداد کا حکم اور طریقہ

    یونیکوڈ   انگلش   احکام وراثت 0
Related Topics متعلقه موضوعات