میں احمد اللہ کی بیٹی ہوں، میرے والد کا گذشتہ ماہ انتقال ہو گیا، انہوں نے اسی (80)گز کا گھر چھوڑا ہے، ہم اپنی والدہ مرحومہ (آسیہ) سے دو بہنیں اور ایک بھائی ہیں، میری حقیقی والدہ کے انتقال کے بعد میرے والد نے انوری بیگم سے شادی کر لی۔
سوال:1۔ میری سوتیلی والدہ کے سابق شوہر سے دو بچے ہیں، کیا وہ میرے والد کے ترکہ میں حصہ دار ہونگے؟ میرے والد کے حقیقی وارث میری سوتیلی ماں اور تین بچے (والدہ مرحومہ کی اولاد) ہیں، ترکہ کی تقسیم کیسے ہوگی؟
سوال:2۔ کیا داماد سے پردہ ہوتا ہے؟ کیا میری سوتیلی ماں کو میرے شوہر سے پردہ کرنا چاہیئے؟
سوال:3۔ کیا میرے بھائی کو سوتیلی ماں سے پردہ کرنا چاہیئے؟
نوٹ: مرحوم احمد اللہ کی انوری بیگم سے کوئی اولاد نہیں ہے، مرحوم نے ترکہ میں مذکور گھر اور کچھ نقدی چھوڑی ہے، مذکور گھر کی تقسیم کا شرعی طریقہ کیا ہوگا؟ گھر کو فروخت کرکے تقسیم کیا جائے گا یا بغیر فروخت کیے؟ مرحوم کے والدین کا انتقال پہلے ہی ہو چکا ہے، مرحوم کے ورثاء میں بیوہ، دو بیٹیاں اور ایک بیٹا مرحوم کے انتقال کے وقت موجود تھے۔
واضح ہوکہ مرحوم کا ترکہ حقیقی اولاد کے درمیان تقسیم ہوتا ہے، سوتیلی اولاد کو شرعاً کچھ نہیں ملتا، لہذ سائلہ کے سوتیلے بہن بھائی سائلہ کے والد مرحوم کے ترکہ میں شرعاً حصہ دار نہیں ہونگے، بلکہ مرحوم کا ترکہ بیوہ، سائلہ اور حقیقی بہن بھائی میں حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم ہوگا، جبکہ مذکور مکان اگر تمام ورثاء میں تقسیم کرنا مشکل ہو اور تمام ورثاء مکان فروخت کرنے پر رضامند ہوں تو فروخت کرکے حاصل ہونے والی رقم تمام ورثاء میں حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم کر دی جائے۔
جبکہ سوتیلی ساس محارم میں شامل نہیں، بلکہ اس سے شرعاً پردہ لازم ہے، لہذا سائلہ کے شوہر کیلئے اپنی سوتیلی ساس (سائلہ کی سوتیلی ماں) سے شرعاً پردہ لازم ہے، البتہ سائلہ کی سوتیلی ماں چونکہ محرم ہے، لہذا سائلہ کے بھائی کا اپنی سوتیلی ماں سے پردہ کرنا شرعاً لازم نہیں۔
اس کے بعد واضح ہو کہ سائلہ کے والدِ مرحوم کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق اُنکے موجودہ ورثاء میں اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقتِ ِانتقال مذکور جائیداد سمیت جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال و جائیداد، سونا، چاندی، زیورات، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے، اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کوئی واجب الادا قرض ہو یا بیوہ کا حق مہر ادا نہ کیا ہو تو اس کی ادائیگی کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگرمرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3) حصے کی حد تک اس پر عمل کریں، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل بتیس (32) حصے بنائے جائیں، جن میں سے مرحوم کی بیوہ کو چار (4) حصے، بیٹے کو چودہ (14) حصے، جبکہ ہر ایک بیٹی کو سات (7) حصے دیے جائیں -
کما فی بدائع الصنائع: ويجوز الجمع بين امرأة وبنت زوج كان لها من قبل، أو بين امرأة وزوجة كانت لأبيها وهما واحد؛ لأنه لا رحم بينهما فلم يوجد الجمع بين ذواتي رحم۔اھ (2/263)
وفی الفتاوى الهندية: ويجوز بين امرأة وبنت زوجها فإن المرأة لو فرضت ذكرا حلت له تلك البنت بخلاف العكس۔اھ (1/ 277)
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2