بکر شادی نہ ہونے کی وجہ سے لاولد فوت ہوا , والدین پہلے ہی فوت ہو چکے تھے ,اس کے ورثاء میں درجِ ذیل لوگ زندہ ہیں ۔
1۔ایک حقیقی بہن
2.ایک سوتیلا بھائی (باپ ,ماں الگ الگ )
3.حقیقی مرحوم بھائی کی اولاد یعنی بھتیجے موجود ہیں۔
ان ورثاء میں بکر کی جائیداد/وراثت کس طرح تقسیم ہو گی۔
مرحوم بکر کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق اس کے مذکور ورثاء میں اس طرح تقسیم کیا جائے گا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال اپنی ذاتی ملکیت میں جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ ، مال و جائیداد ، سونا، چاندی ، نقدی ، زیورات ، مال تجارت اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز و سامان چھوڑاہے ، ان میں سے سب سے پہلے حقوقِ متقدمہ علی المیراث ( کفن دفن کے متوسط مصارف ،واجب الادا قرضوں کی ادائیگی اور بقیہ مال کی ایک تہائی(3/1) کی حد تک جائز وصیت پرعمل کرنے )کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل (2) برابر حصے کرکے ایک حصہ بہن کو اور ایک حصہ بھتیجوں کو دیدیا جائے -
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0