میری ساس کا انتقال ہوگیا ہے انکی دو بیٹیاں ہیں بیٹا کوئی نہیں , کیا انکی میراث دونوں بیٹیوں میں تقسیم ہوگی یا پھر انکے بھائی اور بہنیں بھی میراث میں شریک ہونگی ؟
نوٹ: سائل سے رابطہ کرنے پر معلوم ہو اکہ مرحومہ کے شوہر اور مرحومہ کے والدین انتقال کرچکے ہیں ، جبکہ مرحومہ کے دوبھائی اورچار بہنیں حیات ہیں ۔
سائل کی ساس مرحومہ کی چونکہ نرینہ اولاد اور والدین موجود نہیں ، اس لئے مرحومہ کے بہن بھائی بھی مرحومہ کے ترکے میں شرعاً حصہ دار ہونگے ۔
اس کے واضح ہوکہ سائل کی ساس مرحومہ کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق اس کے موجود ورثاء میں اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحومہ نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا، چاندی، زیورات، نقدر قم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھر یلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑاہے ، اس میں سے سب سے پہلے مرحومہ کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومہ کے ذمہ کچھ قرض واجب الادا ہو تو وہ ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومہ نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3) کی حد تک اس پر عمل کریں اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل چوبیس(24)حصے بنائے جائیں جن میں سے مرحومہ کی ہربیٹی کو آٹھ (8) حصے ، ہربھائی کو دو(2) حصےاور ہر بہن کوایک (1)حصہ دیا جائے -
فی ردالمحتار : (قوله: الأخوات مع البنات) أي الأخوات لأبوين أو لأب ، أما الأخت لأم فلا يعصبها أخوها ، و هو ذكر فعدم كونها عصبة مع الغير أولى(6/776)۔