میں یہ معلوم کرنا چاہتاہوں، کہ پاکستان کے بعض علاقوں میں یہ کہاجاتاہے، اگر کوئی شخص شادی شدہ اور بچوں کا باپ ہو، لیکن اس کا انتقال اپنے والد کی زندگی میں ہوجائے، تو اس کی اولاد اپنے دادا کے میراث کی حقدار نہ ہوگی،قرآن وسنت کا اس بارے میں کیا حکم ہے؟ کیا یہ درست ہے یا غلط؟ کیونکہ ایک طرف اسلام ہمیں یتیم بچوں کی کفالت کا حکم دیتا ہے، اس سلسلہ میں میری خلجان دور کرکے راہنمائی فرمائیں۔
واضح ہو کہ وراثت کے احکام مورث (جائیداد کے مالک) کے انتقال کے بعد لاگوہوتے ہیں، اور اس کے انتقال کے وقت جو ورثاء حیات ہوں وہی اس کے میراث کے حقدار ہوتے ہیں، جبکہ والد کی زندگی میں انتقال کرنے والے بیٹے چونکہ اپنے انتقال کے وقت اپنے والد کی جائیداد کے حقدار نہیں بن سکتے، اسی طرح مورث (والد) کے دیگر بیٹوں کی موجودگی میں اس کے پو تے شرعا وارث نہیں بن سکتے، اس لۓ شرعی ضابطے کے مطابق پوتے (جن کے والد کا انتقال اپنے والد کی زندگی میں ہوچکا ہو) اپنے چچاوں کی موجودگی میں اپنے دادا کے میراث کے حقدار نہیں ہوتے،تاہم اگر مورث اپنی زندگی میں انہیں کچھ دینا چاہے، یا اس کے انتقال کے بعد ان کے چچا اپنے مرحوم بھائی کی اولاد کو کچھ دینا چاہے، تو بلاشبہ یہ نہ صرف جائز بلکہ باعثِ اجروثواب ہے۔
جبکہ یتیم بچوں کی کفالت کی مستقل فضیلت اور احکام ہے، اور وراثت کے الگ مستقل احکام ہے، کسی ایک فضیلت کی وجہ سے دوسرے حکمِ شرعی کو نظرانداز کرنا شریعت سے ناواقفیت کی دلیل ہے۔
’’عن ابن عباس رضي اللّٰه عنهما قال: قال رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه وسلم: ألحقوا الفرائض بأهلها فما بقي فهو لأولی رجل ذکر‘‘. (صحیح البخاري ۲/۹۹۷)۔
’’وقد ذکر الإمام أبوبکر جصاص الرازي رحمه اللّٰه في أحکام القرآن، والعلامة العیني في عمدة القاري: الإجماع علی أن الحفید لایرث مع الابن‘‘. (تکملة فتح الملهم ۲/۱۸)۔
’’ولو کان مدار الإرث علی الیتم والفقر والحاجة لما ورث أحد من الأقرباء والأغنیاء، وذهب المیراث کله إلی الیتامیٰ والمساکین … وأن معیار الإرث لیس هو القرابة المحضة ولا الیُتم والمسکنة، وإنما هو الأقربیة إلی المیت‘‘. (تکملة فتح الملهم ۲/۱۷-۱۸)۔
وفی ردالمحتار:"وشروطه ثلاثة: موت مورث حقيقةً أو حكمًا كمفقود أو تقديرًا كجنين فيه غرة، ووجود وارثه عند موته حيًّا حقيقةً أو تقديرًا كالحمل، والعلم بجهل إرثه".( كتاب الفرائض ٦/ ۷۵٦ ط:سعيد)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2