السلام علیکم
حضرت ایک آدمی ہے اسکے 6بچے ہیں ان میں سے 2 بیٹے اور 4 بیٹیاں ہیں ۔
اب مسئلہ یہ ہے کہ 1 بیٹا اور 2 بیٹیاں باپ کے حیات میں ہی فوت ہوگئے ہیں اور پھر باپ فوت ہوگیا اور مال ہونے تقسیم سے پہلے 1 اور بیٹا فوت ہوگیا ۔
اب 2 بیٹیاں ہیں اور جو اولاد فوت ہو گئی ہے ان سے 2 پوتے 4 پوتیاں اور 5 نواسیاں ہیں, اب تقسیم میں ان بچوں کا حصہ ہے یا نہیں ؟
نوٹ : جو بیٹا والد کی وفات کے بعد فوت ہوگیا تھا ،اس کے ورثاء میں تین بیٹے ایک بیٹی اور ایک بیوہ موجود ہیں ، نیز سائل کا مقصد صرف یہ بات معلوم کرنی ہے کہ جو اولاد فوت ہوگئی ہے ، ان کو یا ان کے بچوں کو مرحوم کے ترکہ میں سے حصہ ملے گا یا نہیں ؟
واضح ہو کہ والد کی زندگی میں جس بیٹے یا بیٹی کا انتقال ہوجائے ، تو اس کا یا اس کی اولاد کا اس کے والد کی میراث میں شرعاً
کوئی حصہ نہیں بنتا ،اور نہ ہی وہ اس کا مطالبہ کرسکتے ہیں ، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں مرحوم کی جن دو بیٹوں اور ایک بیٹی کا انتقال مرحوم کی زندگی میں ہوا تھا ،ان کا یا ان کی اولاد کا مر حوم کے ترکہ میں سے شرعاً کوئی حصہ نہیں ، البتہ اگر مرحوم کےورثا ء اپنی مرضی سے انہیں بھی کچھ دینا چاہیں ، تو اس کا انہیں اختیار حاصل ہے -
البتہ جو بیٹا مرحوم کی وفات کے بعد تقسیمِ ترکہ سے پہلے فوت ہو گیا ہے، اس کو اپنے مرحوم والد کے ترکہ میں سے حصہ ملے گا ، اور اب اس کا حصۂ میراث اس کے شرعی ورثاء تین بیٹے، ایک بیٹی اور بیوہ کے درمیان اور اسی طرح والدہ اگر زندہ ہو تو ان سب کے درمیان حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم کرنا لازم ہوگا ،تاہم سائل اگر تقسیم کا شرعی طریقہ کار معلوم کرنا چاہے ، تو مرحوم کے تمام ورثاء کی تفصیل بمع ان کے ناموں کے جمع کرا کر ان کےحصص معلوم کر سکتا ہے۔
قال اللہ تعالیٰ : لِلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَ الْأَقْرَبُونَ وَ لِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَ الْأَقْرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ أَوْ كَثُرَ نَصِيبًا مَفْرُوضًا (النساء/7)-
و فی رد المحتار : و شروطه ثلاثة : موت مورث حقيقة أو حكما كمفقود ، أو تقديرا كجنين فيه غرة و وجود وارثه عند موته حيا حقيقة أو تقديرا كالحمل و العلم بجهة إرثه ، اھ (6/758)-
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2