میں نادرہ کا فرزند ہوں ، میرے والد صاحب کا 2002 میں انتقال ہوا تھا ، وہ ایک دوائی کی کمپنی میں کام کرتے تھے، اور ان کے انتقال کے وقت ان کی والدہ زندہ تھی مطلب میری دادی، اور میں اس وقت دین سے بہت دور تھا، یعنی ہمیں وراثت کے مسائل معلوم نہ تھے، میرے والد صاحب کے انتقال کے بعد ان کی کمپنی نے ہمیں چھ لاکھ روپے دیے،بیٹے کی وراثت میں ماں کا حصہ ہوتا ہے اس کا مجھے ابھی علم ہوا، اور کچھ سالوں بعد میری دادی کا بھی انتقال ہوگیا، میں نے اس وقت اپنی دادی کا حصہ نہیں دیا تھا، تو کیا اب ہم پر واجب ہے کہ ہماری دادی کے دوسری اولادوں میں حصہ تقسیم کردے? جواب پی ڈی ایف فارمیٹ میں ارسال فرمائیں ، اور مجھے یہ بھی بتائیے کہ سوال بھیجنے کا وقت کب سے کب تک رہتا ہے؟
سائل نے سوال میں یہ وضاحت نہیں کی کہ سائل کے والد مرحوم کو وفات کے بعد کمپنی کی طرف سے انہیں کس مد میں رقم ملی تھی تا کہ اس کے مطابق جواب دیا جاتا،تاہم اگر مرحوم کو کوئی ایسا فنڈ ملا ہو جس کا وہ اپنی زندگی میں حقدار ہوچکا تھا (جیسا کہ پراویڈنٹ وغیر ہ ) تو ایسی صورت میں یہ رقم مرحوم کا ترکہ شمار ہوگا چنانچہ اگر اس رقم میں سائل نے کواپنی دادی مرحومہ کو حصہ نہیں دیا تھا تواب مرحومہ کا حصہ ان کے ورثاء کو دینا لازم اور ضروری ہوگا۔