ماں باپ انتقال کر چکے ہیں ،ہم 8بہن بھائی ہیں , 4 بہنیں اور 4 بھائی , باپ کی جائیداد ایک مکان ہے تو ہم بہن بھائیوں کا جائیداد میں شریعت کے مطابق کیا کیا حصہ بنتا ہے ؟ بتا دیجیے
جزاک اللّہ خیرا کثیرا
وسلام
عائشہ انوار
اگر سائلہ کے والدین کے انتقال کے وقت ان کے والدین میں سے کوئی حیات نہ تھا ، اور مرحوم والدین کے انتقال کے بعد انکےکسی بیٹے یا بیٹی کا انتقال بھی نہ ہوا ہو , تو مرحوم والدین کا ترکہ ذیل میں لکھے گئے طریقہ کے مطابق تقسیم ہوگا۔
پھر واضح ہوکہ مرحوم والدین کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق ان کے مذکور ورثاء میں اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحومین نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ جائیداد ،سونا ، چاندی سامانِ تجارت اور نقدی وغیرہ اپنی ملکیت میں چھوڑی ہے ، اس میں سے سب سے پہلے مرحومین کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں،اسکے بعد دیکھیں اگر مرحومین کے ذمہ کچھ قرض واجب الادا ہو وہ ادا کریں،اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومین نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی کی حد تک اس پر عمل کریں ، اسکے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل بارہ حصے بنائے جائیں ،جس میں سے ہر بیٹے کو دو حصے اور ہر بیٹی کو ایک حصہ دیا جائے -