السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
میرے والد صاحب جس مکان میں رہتے ہیں وہ میری دادی مرحومہ کے نام ہے , اور دادا بھی انتقال فرما گئے ہیں , میرے والد صاحب کے علاوہ ایک پھوپھی حیات اور دو انتقال کر گئیں ہیں ، کیا اس مکان کی وراثت کی تقسیم میرے والد صاحب پر فرض ہے؟ مہربانی فرما کر رہنمائی فرمائیں 1. وراثت کی تقسیم کا طریقہ کار 2.کیا وراثت کی تقسیم موجودہ قیمت کے حساب سے ہوگی ?
نوٹ : دونوں پھوپھیاں (زکیہ، رضیہ) سائل کے دادا، دادی کے بعد فوت ہوئیں ، پہلے زکیہ کا انتقال ہوا پھر رضیہ کا ، زکیہ کی وفات کےوقت اُنکے ورثاء میں دو بیٹے اور تین بیٹیاں حیات تھیں، جبکہ رضیہ کے انتقال کے وقت ایک بیٹا اور ایک بیٹی حیات تھے۔
سائل کے دادا ، دادی کے انتقال کے بعد اُنکا ترکہ جلد از جلد ورثاءمیں تقسیم کر دینا چاہیئے تھا، تاہم اگر تقسیم سے قبل کچھ ورثاء (سائل کی پھوپھیوں) کا انتقال ہو گیا تو اب اُنکو ملنے والاشرعی حصہ اُنکے اپنے ورثاء کے درمیان تقسیم ہوگا۔
اس کے بعد واضح ہو کہ سائل کے دادا ، دادی مرحومین کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق اُنکے موجودہ ورثاء میں اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحومین نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا ، چاندی ، زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے اس میں سے سب سے پہلے مرحومین کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں، اسکے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومین کے ذمہ کوئی واجب الادا قرض ہو تو اس کی ادائیگی کریں، اسکے بعد دیکھیں کہ اگرمرحومین نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (3/1) حصے کی حد تک اس پر عمل کریں، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل ایک سو پانچ(105) حصے بنائے جائیں، جن میں سے مرحومین کے بیٹے کو بیالیس (24) حصے، بیٹی کو اکیس (21) حصے، ہر ایک نواسے (زکیہ کے بیٹوں میں سے ) کو چھ (6) حصے، تیسرے نواسے (رضیہ کے بیٹے) کو چودہ (14) حصے، ہر ایک نواسی (زکیہ کی بیٹیوں) کو تین (3) حصے، جبکہ چوتھی نواسی (رضیہ کی بیٹی) کو سات(7) حصے دیے جائیں -