السلام علیکم و رحمتہ اللّٰہ و برکاتہ
ایک بندے کی 2 بیویاں اور 3 بیٹے اور 4 بیٹیاں ہیں اسکی جائیداد کس طرح تقسیم ہو گی ؟ ہر ایک حصہ بتا دیں , اور فرض کریں 1 لاکھ روپے ہوں تو ہر ایک کے حصے میں کتنے آئیں گے ؟
اگر مرحوم کے انتقال کے وقت اس کے والدین میں سے کوئی حیات نہ تھا ،اور مرحوم کے انتقال کے بعد اسکے بیٹے یا بیٹی میں سے کسی کا انتقال نہ ہوا ہو , تو مرحوم کا ترکہ ذیل میں لکھے گئے طریقہ کے مطابق تقسیم ہوگا۔
واضح ہوکہ مرحوم کا ترکہ اس کے مذکور ورثاء میں اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد اپنی ملکیت میں چھوڑی ہے،اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اسکے بعد دیکھیں اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض واجب الادا ہو یا اس نے بیواؤں کا حق مہر ادا نہ کیا ہو تو وہ بھی قرض ہے , وہ بھی ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی کی حد تک اس پر عمل کریں ، اسکے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل اسی(80) حصے بنائے جائیں ،جس میں سے ہر بیوہ کو پانچ پانچ حصے ، اور ہر بیٹے کو چودہ (14) حصے اور ہر بیٹی کو سات(7) حصے دیے جائیں،مزید سہولت کے لئے فیصدی حصے بھی لکھ دیے گئے ہیں ، و اللہ اعلم
ہر بیوہ کا فیصدی حصہ:٪6,25
ہر بیٹے کا فیصدی حصہ:٪17،5
ہر بیٹی کا فیصدی حصہ:٪8،75