السلام علیکم، وراثت کے حوالے سے آپ سے کچھ پوچھنا تھا، براہ مہربانی کچھ رہنمائی فرمائیں ۔
ہم پانچ بھائی ،ایک بہن ہیں، سب شادی شدہ ہیں، والدین کا انتقال ہو چکا ہے۔ والد کی وراثت میں ایک گھر ہے جس میں چار بھائی رہتے ہیں، ایک بھائی والدین کی حیات میں ہی الگ ہو چکے تھے، ان کا ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہے، دونوں بالغ ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ گزشتہ ہفتے ان کا انتقال ہو گیا ہے، اس صورت حال میں پوتے یا پوتی کا وراثت میں کیا حصہ بنتا ہے؟ جبکہ باقی بہنوں کی اس گھر میں رہائش ہے۔ براہ مہربانی رہنمائی فرمائیں ، جزاک اللہ خیراً
واضح ہو کہ تقسیمِ میراث سے قبل اگر کسی وارث کا انتقال ہو جائے تو مذکورہ میراث میں سے اس مرحوم وارث کا حصہ اس کے شرعی ورثاء میں تقسیم کرنا شرعاً لازم ہے۔لہٰذا صورتِ مسئولہ میں جب سائل کے والدین کے انتقال کے بعد ترکہ کی شرعی تقسیم سے پہلے ایک بھائی کا انتقال ہو گیا، تو اس مرحوم بھائی کا حقِ میراث ساقط نہیں ہوگا، بلکہ اس کا حصہ اس کے ورثاء یعنی اولاد میں حسبِ حصصِ شرعی تقسیم کیا جائے گا۔
اس کے بعد واضح ہوکہ سائل کے مرحوم والدین کی وفات کے بعد انکا ترکہ ان کےموجود ورثاء میں اصولِ میراث کے مطابق اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحومین نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ اور غیرمنقولہ مال و جائیداد، سونا، چاندی ، زیورات ، نقدی رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے، وہ سب مرحومین کا ترکہ ہے، اس میں سے سب سے پہلے مرحومین کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کر نے کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومین کے ذمہ کچھ قرض واجب الأدا ہو تو وہ ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومین نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (3 /1) کی حد تک اس پر عمل کریں، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل تینتیس (33) حصے بنائے جائیں، جن میں سے ہرایک بیٹے کو چھ (6) حصے ، اوربیٹی کو تین ( 3 ) حصے،پوتے کوچار (4) حصے، پوتی کو دو(2) حصے دیدیےجائیں ۔
کما فی الدرالمختار: هی علم بأصول من فقه وحساب تعرف حق كل من التركة، الخ
وفی الرد: تحت (قولہ: هی علم بأصول إلخ) أی قواعد وضوابط (إلی قولہ) وشروطه ثلاثة: موت مورث حقيقة، أو حكما كمفقود، أو تقديرا كجنين فيه غرة، ووجود وارثه عند موته حيا حقيقة أو تقديرا كالحمل،الخ (كتاب الفرائض، ج 6، ص 757، ط: ایچ ایم سعید)-
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2