”سورة الکوثر“ کا عمل لاعلاج مرض اور ہر پریشانی، تکلیف، رشتے کی بندش ، مقدمات اور تمام حاجات کیلئے، ایک بوتل پر (21 )مرتبہ پڑھیں جس مریض کو صحت نہیں ہوتی اُسے پانی پلاتے رہیں تو امید ہے صحت ہوگی، ان شاء اللہ۔
سورۂ مبارکہ یہ ہے اور اس طرح پڑھی جائے ”بسم الله الرحمن الرحيمِ ط إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَر إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ ۔ 21 مرتبہ پڑھیں، ان شاء اللہ 40 دن تک یہ عمل کریں، اگر بیماری سخت ہے ( جیسے، کینسر، ٹی بی ، ہیپا ٹائٹس اور لاعلاج مرض ) 3 ماہ تک پڑھیں،بعدِ نماز فجر پڑھنا ہے اور اگر کوئی مقدمہ، پریشانی، تکلیف، کوئی حاجت کی نیت سے پڑھیں گے تو بعدِ نماز عشاء پڑھنا ہے اول و آخر 11-11 بار درود شریف ضرور پڑھیں، اس عمل کو کرنا جائز ہے؟ کیونکہ مجھے حروف کے اضافہ کی وجہ سے یہ تحریف قرآن پاک لگی ہے۔
صورتِ مسئولہ میں ” سورة الکوثر “ اگر مطلوبہ مقدار میں پڑھ کر مخصوص ایام تک پانی پر دم کر کے مریض کو پلانا مجرب ہو تو اس طرح کرنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں، لیکن”سورة الکوثر“ پڑھنے کے لئے جو طریقہ سوال میں تحریر کیا گیا ہے، اس میں مذکور اضافی الفاظ اگر قرآن کا حصہ ہونے کی نیت سے نہ پڑھے جائیں، اور نہ ہی ”سورة الکوثر “ کومذکور طریقہ پر باقاعدہ لکھا جاتا ہو تو یہ اگرچہ تحریفِ قرآن کے زمرے میں داخل نہ ہو گا، تاہم سوال میں ” سورة الکوثر “کے پڑھنے کا جو انداز نقل کیا گیا، اس سے قرآنی آیات کی بے ادبی کا شائبہ ضرور ہے، اس لئے مذکور طریقے پر قرآنی آیات پڑھنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔
وفي التبيان فی آداب حملة القرآن: وقال أقضى القضاة الماوردي فی كتابه الحاوي القراءة بالألحان الموضوعة ان أخرجت لفظ القرآن عن صيغته بإدخال حركات فیه أو إخراج حركات منه أو قصر ممدود أو مد مقصور أو تمطيط يخفی به بعض اللفظ ويتلبس المعنى فهو حرام يفسق به القارئ ۔ اهـ (ص:111)
وفي الفتاوى الهندية: وحكي عن أبي بكر بن أبي سعيد أنه قال يستحب عند زيارة القبور قراءة سورة الإخلاص سبع مرات فإنه بلغني من قرأها سبع مرات إن كان ذلك الميت غير مغفور له يغفر له وإن كان مغفورا له غفر لهذا القارئ ووهب ثوابا للميت كذا فی الذخيرة فی فصل قراءة القرآن.وإن قرأها عشر مرات فهو أحسن اهـ (5/350)