ہم دو بہن اور ایک بھائی ہے میری والدہ کا انتقال 35 سال پہلے ہو گیا تھا ، جب میرے نانا زندہ تھے ، پھر 22 سال پہلے میرے نانا کا بھی انتقال ہو گیا ، میرے دو ماموں اور دو خالہ ہیں وہ اب میرے نانا مرحوم کی جائیداد کا بٹوارہ کر رہے ہیں ، کیا اس جائیداد میں میرا اور میری بہنوں کو بھی حصہ ملے گا ، پاکستان کے قانون کے آرٹیکل SCMR 281 1997 کے مطا بق حصہ بنتا ہے ، پوچھنا یہ ہے کے شریعت کے حساب سے بھی ہمارا حصہ نکلتا ہے یا نہیں؟
واضح ہوکہ میراث انسان کے مرنے کے بعد وارثوں کی طرف منتقل ہوتی ہے،لہذا سائلہ کی والدہ اگر اپنے والد سے پہلے انتقال کرگئی تو اس صورت میں وہ اپنے والد کے ترکہ میں وارث بھی نہ ہوگی،اور جب سائل کی والدہ کا اپنے والد کے ترکہ میں حصہ نہیں ، تو سائل اور اس کی بہن کا بھی حصہ نہ ہوگا، اور نہ ہی انھیں ماموں وغیرہ سے مطالبہ کا حق حاصل ہے ، البتہ اگر وہ اپنے حصوں میں سے انھیں کچھ دینا چاہیں تو اس کا انھیں اختیار ہے ،اور باعثِ اجر و ثواب بھی ہے ، مگر ایسا کرنا ان پر لازم نہیں۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2