پرائز بانڈ

پرائز بانڈ کی شرعی حیثیت

فتوی نمبر :
58687
| تاریخ :
جدید فقہی مسائل / جدید معاشیات / پرائز بانڈ

پرائز بانڈ کی شرعی حیثیت

میں پرائز بانڈز کی شرعی حیثیت جاننا چاہتا ہوں، کیا ہمیں اس میں شریک ہونا چاہیے یا نہیں؟ میرا مطلب وہ پرائز بانڈز ہیں، جو حکومت پاکستان نے مختلف قیمتوں میں جاری کیے ہیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

پہلے تو اس بات کو ذہن نشین کرلینا چاہئے کہ انعامی بانڈ (پرائز پانڈ) کی اسکیم میں کسی چیز کی خرید و فروخت نہیں ہوتی بلکہ اس اسکیم کے تحت جو رقم دی جاتی ہے درحقیقت وہ رقم حکومت پر قرض ہوتی ہے اور اس پر جو نفع دیا جاتا ہے وہ سود ہوتا ہے۔
اور اس طریقہ کار کی پوری تفصیل یہ ہے کہ حکومت ہر پرائز بانڈز والے شخص سے اس کے دیئے ہوئے قرض پر سود دینے کا مُعاہدہ تو نہیں کرتی لیکن انعامی بانڈز حاصل کرنے والے تمام، افراد سے بحیثیتِ مجموعی یہ بات بہرحال طے ہوتی ہے کہ وہ انہیں انعام ضرور تقسیم کرے گی، اگر وہ ایسا نہ کرے تو انعامی بانڈز رکھنے والا ہر فرد انعام تقسیم کرنے کا مطالبہ کرسکتا ہے، بلکہ وہ بذریعۂ عدالت بھی حکومت کو انعام کی تقسیم پر مجبور کرسکتے ہیں، چنانچہ مذکورہ بالا تفصیل سے پرائز بانڈز کی حقیقت نمایاں ہوکر سامنے آگئی ہے کہ پرائز بانڈز کی رقم حکومت پر قرض ہوتی ہے جس کیلئے کوئی مدت مقرر نہیں جب چاہیں لے سکتے ہیں۔
اب یہ بھی سمجھ لینا چاہئے کہ بانڈز رکھنے ولوں کوبصورتِ انعام جو کچھ ملتا ہے وہ اسی قرض کی بناء پر ملتا ہے جو بحیثیتِ مجموعی جملہ انعامی بانڈز (پرائز بانڈ) رکھنے والوں سے مشروط ہے، اور قرض پر ہر قسم کا مشروط نفع احادیث و فقہ کی روشنی میں بلاشبہ ناجائز اور سود ہے اور اس کو وصول کرنا اور اپنے استعمال میں لانا ناجائز اور حرام ہے۔
جتنے روپے کا انعامی بانڈز (پرائز بانڈز) ہے اسی قدر رقم واپس لے سکتے ہیں زائد نہیں اگر کسی نے غلطی سے پرائز بانڈ پر ملنے والے انعام کی رقم حاصل کرلی ہو تو جتنی رقم انعام کی تھی اتنی رقم کے بانڈز لیکر اُنہیں جلادے، یا پھاڑ کر ضائع کردے تاکہ حکومت کو سود کی رقم واپس پہنچ جائے کیونکہ اس رقم کا حکم یہی ہے کہ جس سے لی ہے اس کو واپس کردے اور جب اصل کو لوٹانا مشکل ہو تو بلانیتِ ثواب کسی مستحق زکوٰۃ کو مالک و قابض بناکر دے دے۔

مأخَذُ الفَتوی

وفی الدر: وفی الاشباہ کُل قرضٍ جرّ نفعًا حرامٌ فکرہ للمرتھن سکنی المرهونه باذن الراهن الخ وفی الرد: اذا کان مشروطًا کما علم مانقلہ عن البحر، وعن الخلاصة وفی الذخیرۃ وان لم یکن النفع مشروطًا فی القرض فعلٰی قول الکرخی لا بأس بہ۔ (ج۵، ص۱۶۶) واللہ اعلم بالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبد المؤمن خوشی محمد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 58687کی تصدیق کریں
| | |
1     4336
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • پرائز بونڈ پر سود نہ ہونے کی تصریح کے باوجود سود کیسے؟

    یونیکوڈ   پرائز بانڈ 0
  • پرائز بانڈ پر ملنے والے انعام کا حکم

    یونیکوڈ   پرائز بانڈ 0
  • "صکوک مضاربہ بانڈز" میں انویسٹمنٹ کا حکم

    یونیکوڈ   پرائز بانڈ 0
  • پرائز بانڈ کا حکم-سو روپے کے نئے نوٹ کے بدلے 125 روپے لینا

    یونیکوڈ   پرائز بانڈ 0
  • کیا پرائز بانڈ میں سرمایہ کاری کرنا جائز ہے ؟

    یونیکوڈ   پرائز بانڈ 0
  • انعامی بانڈز (پرائز بانڈز) کی اسکیم سے ملنے والے پیسے کاحکم

    یونیکوڈ   پرائز بانڈ 0
  • بیرون ممالک میں انعامی بانڈز کا حکم

    یونیکوڈ   پرائز بانڈ 0
  • ہانعامی بانڈز (پرائز بانڈز) کی اسکیم کاحکم

    یونیکوڈ   پرائز بانڈ 0
  • پرائز بانڈ سے رقم خریدنا یا جیتنا جائز ہے یا نہیں؟

    یونیکوڈ   پرائز بانڈ 0
  • انعامی بانڈز (پرائز بانڈز) کی اسکیم اور اس سے ملنے والے انعام کاحکم

    یونیکوڈ   پرائز بانڈ 0
  • پریمیم بانڈز کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   پرائز بانڈ 0
  • انعامی بانڈ (پرائز بانڈز) کی اسکیم کے تحت ملنے والے انعام کو اپنی ذاتی استعمال میں لانا

    یونیکوڈ   پرائز بانڈ 0
  • انعامی بانڈز خرید نے کا حکم

    یونیکوڈ   پرائز بانڈ 0
  • انعامی بانڈز کے بارے میں کیا حکم ہے ؟

    یونیکوڈ   پرائز بانڈ 0
  • پرائز بانڈز کی خرید وفروخت کا حکم

    یونیکوڈ   انگلش   پرائز بانڈ 1
  • پرائز بانڈ اور اس پر ملنے والی انعامی رقم کا شرعی حکم

    یونیکوڈ   انگلش   پرائز بانڈ 0
Related Topics متعلقه موضوعات