کیا عشر کی رقم , میں اپنے بھائی ، چچا ،اور پھوپھی کو دے سکتا ہوں ؟ جو کہ بظاہر صاحبِ حیثیت نظر آ رہے ہوں لیکن ہمیں علم ہو کہ ان کے کوئی مناسب ذرائع آمدنی نہیں ہیں اور ضروریات زندگی گزارنے کے لئے کوئی مناسب ذرائع نہیں ہیں۔
2۔ کیا کمرے کے ساتھ اٹیچ باتھ روم میں جس میں فلش اور کموڈ وغیرہ بھی ہوں, اس میں نہاتے ہوئے یا وضو کرتے ہوئے بسم اللہ اور دوسری مسنون دعائیں پڑھی جا سکتی ہیں ؟
شکریہ اللہ آپ کو جزا دے
(1)سوال میں مذکور چچازاد بھائی اور سائل کی پھوپھی صاحبِ نصاب نہ ہوں یعنی ان کے پاس ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کے بقدر مالیت کی کوئی اور چیز ضرورتِ اصلیہ سے زائد موجود نہ ہو تو سائل ان کو عشر کی رقم یا غلہ وغیرہ دے سکتاہے۔
(2)جبکہ باتھ روم میں داخل ہونے کے بعد اذکار و دعاء پڑھنا درست نہیں ، تاہم اگر کوئی شخص باتھ روم میں داخل ہونے سے پہلے دعا پڑھنا بھول جائے تو اس کو چاہیئے کہ وہ باتھ روم میں داخل ہونے کے بعد دل میں دعاء پڑھ لے زبان سے تلفظ کی ادائیگی نہ کرے -
عشر کی رقم چچاز زاد اور پھوپھی کو دینا - بیت الخلاء میں وضو کرتے وقت دعائیں پڑھنا
یونیکوڈ عشر و خراج 0