میری کچھ ایکڑ زمین ہے جس پر میں ان جانوروں کے لئے جن پر میراگزر بسر ہے چارہ اگاتاہوں ،اور چارہ جانور کھاتے ہیں ،تومیں نے پوچھنایہ ہے کہ کیااس پر بھی مجھے عشر اداکرناپڑے گایانہیں؟
سائل اگراپنی مذکور زمین میں جانوروں کےچرنے کےلئےباقاعدہ چارہ کی کاشت کرتاہو،وہ چارہ خودروگھاس کےقبیل سےنہ ہو،اوراسےسیراب کرنےپرکوئی اخراجات وغیرہ نہ ہوں،توایسی صورت میں اس چارہ کاعشرنکالناسائل پرلازم ہوگا،جبکہ کنویں،تالاب اورٹیوب ویل وغیرہ کےپانی سےسیراب کرنےکی صورت میں نصف عشرلازم ہوگا۔
کمافی الدرالمختار: (الاّ فیـ)ما لایقصدبہ استغلال الارض (نحو حطب وقصب) فارسی (وحشیش) وتبن وسعف وصمغ وقطران وخطمی واشنان وشجرقطن وباذنجان وبزربطیخ وقثاء وادویۃ کحلبۃ وشونیز حتی لو اشغل ارضہ بھا یجب العشر الخ (ج2 صـ327 کتاب الزکاۃ باب العشر ط: ایچ ایم سعید)۔
وفی ردالمحتار تحت (قولہ: الاّ فیما لایقصد الخ) (الی قولہ) ان المدار علی القصد حتی لو قصدبہ ذلک وجب العشر الخ (ج2 صـ327 کتاب الزکاۃ باب العشر ط: ایچ ایم سعید)۔
وفی فتح القدیر: والسبب ھی الارض النامیۃ ولھذا یجب فیھا الخراج اما الحطب والقصب والحشیش فلاتستنبت فی الجنان عادۃ بل تنقی عنھا حتی لو اتخذھا مقصبۃ او مشجرۃ او منبتا للحشیش یجب فیھا العشر الخ (ج2 صـ189 باب زکاۃ الزرع والثمار ط: رشیدیۃ)۔
وفی الھندیۃ: فلاعشر فی الحطب والحشیش والقصب والطرفاء والسعف لان الارض لاتستنمی بھذہ الاشیاء بل تفسدھا حتی لو استنمی بقوائم الخلاف والحشیش والقصب وغصون النخل او فیھا دلب او صنوبر ونحوھا وکان یقطعہ ویبیعہ یجب فیہ العشر الخ (ج1 صـ186 الباب السادس فی زکاۃ الزرع والثمار ط: ماجدیۃ )۔
عشر کی رقم چچاز زاد اور پھوپھی کو دینا - بیت الخلاء میں وضو کرتے وقت دعائیں پڑھنا
یونیکوڈ عشر و خراج 0