ٹھیکہ پر لی ہوئی زمین پر عشر کا حساب کیا ہے؟
ٹھیکہ پر لی ہوئی زمین کا عشرمفتی بہ قول کے مطابق ٹھیکہ دار پرادا کرنا واجب ہے، البتہ اگر کسی علاقہ میں زمین کا مالک ٹھیکہ بہت زیادہ لیتا ہو اور ٹھیکہ پر لینے والے کو بچت کم ہوتی ہو تو ایسی صورت میں عشر زمین کے مالک پر لازم ہوگا، جبکہ وہ زمین جس کی سیرابی پر مشقت اور خرچ لازم آتا ہو (مثلا ٹیوب ویل وغیرہ )کا خرچہ اس پر کل پیداوار کا بیسواہ حصہ یعنی (5%)دینا لازم ہے اور جس زمین کی سیرابی پر مشقت اور خرچ نہ آتا ہو مثلا نہری یا بارانی پانی سے سیراب ہوتی ہو اس کی پیداوار پر عشر یعنی (10%)دینا ضروری ہوگا۔
وفی الدر المختار: والعشر على المؤجر كخراج موظف وقالا على المستأجر كمستعير مسلم: وفي الحاوي وبقولهما نأخذ الخ(ج2 ص334)۔
وفی رد المحتار:تحت(قولہ وبقولھما ناخذ) قلت: لكن في زماننا عامة الأوقاف من القرى والمزارع لرضا المستأجر بتحمل غراماتها ومؤنها يستأجرها بدون أجر المثل بحيث لا تفي الأجرة، ولا أضعافها بالعشر أو خراج المقاسمة، فلا ينبغي العدول عن الإفتاء بقولهما في ذلك؛ لأنهم في زماننا يقدرون أجرة المثل بناء على أن الأجرة سالمة لجهة الوقف ولا شيء عليه من عشر وغيره أما لو اعتبر دفع العشر من جهة الوقف وأن المستأجر ليس عليه سوى الأجرة فإن أجرة المثل تزيد أضعافا كثيرة كما لا يخفى فإن أمكن أخذ الأجرة كاملة يفتى بقول الإمام وإلا فبقولهما لما يلزم عليه من الضرر الواضح الذي لا يقول به أحد والله تعالى أعلم الخ(ج2 ص334)۔
وفیہ ایضا:تحت(قوله يجب العشر) ثبت ذلك بالكتاب والسنة والإجماع والمعقول: أي يفترض لقوله تعالى {وآتوا حقه يوم حصاده} [الأنعام: 141] فإن عامة المفسرين على أنه العشر أو نصفه وهو مجمل بينه قوله صلى الله عليه وسلم «ما سقت السماء ففيه العشر وما سقي بغرب أو دالية ففيه نصف العشر»الخ(ج2 ص325)۔
عشر کی رقم چچاز زاد اور پھوپھی کو دینا - بیت الخلاء میں وضو کرتے وقت دعائیں پڑھنا
یونیکوڈ عشر و خراج 0