السلام علیکم!
ہم صرف دو بھائی ہیں , والد صاحب نے اپنی زندگی میں میرے ایک دوست کو دس لاکھ کاروبار کے لئے دیے , اور میرے ساتھ جا کر کاروباری شراکت کا اسٹامپ پیپر بنوایا ,
اسٹامپ پیپر میں والد صاحب نے کاروباری شراکت , میرے اور میرے دوست کے درمیان لکھوائی ,یعنی تحریر یہ ہوا کہ یہ رقم کاروباری مقصد کیلئے ضیاء اللہ (میرا نام ہے) نے یاسر کو دی ہے.
والد صاحب کا انتقال ہوگیا ہے ,اب اس رقم کا وراثت کے حوالے سے فتویٰ درکار ہے. جزاک اللہ , و السلام
اگرسائل کے والد مرحوم نے یہ رقم باقاعدہ سائل کو مالک بناکر نہ دی ہو ، بلکہ محض اسٹامپ پیپر میں سائل کو پارٹنر ظاہر کیا ہو ، تو اس کی وجہ سے سائل اس رقم کا مالک نہیں بنا ، بلکہ یہ رقم اور کاروبارسے حاصل شدہ پورانفع سائل کے والد مرحوم کا ترکہ ہے ، اور سائل کا اکیلے اس رقم پر قابض ہونا شرعاً جائز نہیں ، اب اگرمرحوم کے ورثاء میں صرف دوہی بیٹے ہوں اور مرحوم کی بینٹاں ، بیوہ اور والدین میں سے کوئی بھی حیات نہ ہو ، تو اس رقم سمیت پوراترکہ سائل اور اس کے بھائی کے درمیان برابرتقسیم ہوگا -
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2