والد صاحب کی جائداد کی شرعی تقسیم کے بابت ایک سوال پوچھنا مطلوب ہے،
اگر صاحبِ اولاد بیٹے کی وفات اپنے والد صاحب کی زندگی میں ہی ہو جاتی ہے تو کیا جائداد کی تقسیم کے وقت مرحوم کے بچے اور بیوہ کا دادا /سسر کی جائداد میں شرعی طور پر حصہ بنتا ہے کہ نہیں؟
کیونکہ میں نے سنا ہے کہ اگر صاحبِ اولاد بیٹے کی وفات اپنے والد صاحب کے حیات میں جائداد کی تقسیم سے پہلے ہی ہو جائے تو صورت مذکورہ میں مرحوم کے والد جائداد کی تقسیم میں اپنے پوتے و پوتیوں اور بیوہ بہو کو جائداد میں شرعی حصہ دینے کے پابند نہیں؟
واضح ہوکہ بیٹے کا انتقال اگر اپنے والد کی زندگی میں ہی ہوجائے تو اس صورت میں دیگر قریبی ورثاء کی موجودگی میں مرحوم بیٹے کی اولاد اور اسکی بیوہ کاشرعا دادا مرحوم کے ترکہ میں کوئی حصہ نہیں ہوگا،تاہم اگر تمام ورثاء اپنے مرضی سے ان کو کچھ دینا چاہیں تو اس کا انہیں اختیار ہے۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2