میں عمران نصیر کراچی کا رہائشی ہوں ،میں جس علاقے میں رہتا ہوں،وہاں کی ایک مسجد کا نظام چوری کے پانی سے چلایا جارہا ہے،یعنی کہ ایک مین لائن ہے جو اس علاقے سے گزر رہی ہے اور وہ دوسرے علاقے کو اس سے پانی کی سپلائی ہو رہی ہے، اس سے مسجد کے نام پر غیر قانونی کنکشن کیا ہوا ہے جو کہ واٹر بورڈ کے علم میں نہیں ہے ، وہ پانی اس علاقے کے مکینوں کو فروخت کیا جاتا ہے ،اس سے امام مسجد کی تنخواہ اور دیگر مسجد کے اخراجات ادا کیے جاتے ہیں اور جو پانی کی سپلائی میں بجلی استعمال ہو رہی ہے وہ بھی چوری کی ہے ،کیا آیا اس طرح سے مسجد کا نظام چلا یا جا سکتا ہے؟ اس میں رہنمائی کریں۔
غیر قانونی طور پر پانی حاصل کرکے اسے آگے فروخت کرنا ، حاصل شدہ پیسوں سے مسجد کا نظام چلانا ، پھر اس غیر قانونی طور پر پانی حاصل کرنے کیلیے غیر قانونی کنکشن لگا کر بجلی حاصل کرنا شرعاً جائز نہیں، بلکہ یہ دوہرا جرم اور گناہ ہے ، جس سے احتراز لازم ہے۔ مذکور مسجد کی انتظامیہ پر لازم ہے کہ فورا اس غیر قانونی اور چوری کے پانی اور بجلی کی لائنوں کو منقطع کرے، اور متعلقہ ادارہ سے باضابطہ اجازت لے کر پانی، بجلی حاصل کرنے کی کوشش کرے، اور اب تک اس طرح جتنی بجلی، پانی حاصل کرکے اس کا استعمال کیا ہے ۔ متعلقہ ادارہ میں اس کا بل بھی جمع کرائے ، اور اپنے عمل پر بصدق دل توبہ و استغفار بھی کرے اور آئندہ اس طرح کے عمل سے مکمل اجتناب بھی کریں۔
ففي أحكام القرآن للجصاص: ومتى سقط الحد المذكور في الآية وجبت حقوق الآدميين من القتل والجراحات وضمان الأموال (إلی قوله) كالسارق إذا درئ عنه الذي يكون به محاربا وجب ضمان ما تناوله من مال اھ (4/ 60) والله أعلم بالصواب