السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب میری والدہ کی پانچ بہنیں ہیں اور ان کا ایک ہی بھائی ہے۔ پانچوں بہنیں اپنی وراثت کا حصہ بھائی کو خوشی خوشی دینا چاہتی ہیں تو کیا یہ ان کے لیے جائز ہے ؟ اور اس کی کیا صورت بن سکتی ہے؟ ہمارے ماموں بہت غریب اور محتاج ہیں، اس لئے اس کی ساری بہنیں اس کو اپنی وراثت کا حصہ دینا چاہتی ہیں، کیا یہ جائز ہے اور اگر نہیں تو اس کے جواز کی کیا صورت بن سکتی ہے ؟
اگر تقسیم میراث کرنے کے بعد ہر بہن کو اس کا حصہ مالکانہ قبضہ کے ساتھ اُسے دے دیا جائے اور اس کے بعد وہ جسے دینا چاہے اُسے دیدے تو یہ بلاشبہ جائز اور درست ہے یا تقسیم سے پہلے جسے وہ دینا چاہے اسے اپنا حصہ معمولی سی قیمت پر بیچ د ے اور پھر بعد میں اُسے اس کی قیمت بھی معاف کر دے تو اس طرح کرنا بھی بلاشبہ جائز اور درست ہے۔
ففي الدر المختار: (وشرائط صحتها في الواهب العقل والبلوغ والملك وفي الموهوب أن يكون مقبوضا غير مشاع مميزا غير مشغول اھ (5/ 688)
وفي الهداية في شرح بداية المبتدي: ومن وهب شقصا مشاعا فالهبة فاسدة" لما ذكرنا "فإن قسمه وسلمه جاز"؛ لأن تمامه بالقبض وعنده لا شيوع. (3/ 223)
وفى البحر الرائق: ويشترط في صحة هبة المشاع الذي لا يحتملها أن يكون قدرا معلوما حتى لو وهب نصيبه من عبد ولم يعلمه به لم يجز لأنها جهالة توجب المنازعة اھ (7/ 286) والله تعالى اعلم بالصواب!
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2