ہم کینیڈا کے رہائشی ہیں، میری بیٹی کا پاکستانی لڑکے سے نکاح ہوا، اس کا شوہر چار ماہ قبل کینیڈ آیا، ایسالگتا ہےکہ اس نے میری بیٹی کے ساتھ صرف کینیڈا آنے کیلئے شادی کی تھی ، وہ میری بیٹی کے ساتھ تعلقات نہیں رکھنا چاہتا، بلکہ طلاق دینے سے بھی انکار کر رہا ہے، جبکہ اب تک رخصتی نہیں ہوئی، ہم نے طلاق کی درخواست عدالت میں جمع کرادی ہے، یہاں کے قانون کے موافق شوہر کے درخواست پر دستخط کیے بغیر بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے ,تو کیا اب اس کے شوہر کے طلاق کے الفاظ کہےلکھے بغیر شرعی طلاق واقع ہو جاتی ہے؟
سائل کو محض اس شبہ کی وجہ سے کہ داماد بعد میں اس کی بیٹی کے حقوق ادا نہیں کرے گا فسخِ نکاح کا سوچنا درست نہیں، البتہ اگر واقعی داماد کیلئے حقوق کی ادائیگی مشکل ہو تو اس سے بات کر کے خلع لے سکتے ہیں، مگر اس صورت میں یکطرفہ عدالتی فیصلہ لینےسے نکاح فسخ نہ ہو گا۔
کما فی أحكام الخلع واشتراط رضا الزوج فيه: الخلع , وهو : الافتداء إذا كرهت المرأة زوجها, فخافت أن لا توفيه حقه , أو خافت أن يبغضها فلا يوفيها حقها , فلها أن تفتدي منه ويطلقها, إن رضي هو ؟ وإلا لم يجبر هو؟ ولا أجبرت هي؟ إنما يجوز بتراضيهما . ولا يحل الافتداء إلا بأحد الوجهين المذكورين, أو باجتماعهما, فإن وقع بغيرهما فهو باطل ويرد عليها ما أخذ منها وهي امرأته كما كانت ويبطل طلاقه ويمنع من ظلمها فقط۔اھ (1/40)
وفي الفتاوى الحامدية: (سئل) في امرأة وجدت زوجها مجذوماً وتريد الفسخ والفرقة بسبب ذالك فهل ليس لها ذالك ؟ (الجواب) نعم۔اھ (1/29)
شادی شدہ عورت اگر کسی کے ساتھ بھاگ کر چلی جائے تو اس کا نکاح ختم ہو جاتاہے؟نیز اس عورت کو ازخود قتل کیا جاسکتا ہے ؟
یونیکوڈ تفریق و تنسیخ 1