ایک سرکاری ملازم کا اپنی زندگی میں اپنی گریجوٹی اور پنشن کیلئے بیوی کو نامزد کرنا کیسا ہے؟ یہ وصیت کے حکم میں ہوگا یا نہیں؟ اور اگر اس شخص کے فوت ہونے کے بعد پنشن کی یہ رقم ثلث سے زائد ہو یا فقط اتنی ہی رقم ہومرحوم کامزید ترکہ نہ ہوجس کی بناء پر والدین یا دیگر اقرباء محروم ہورہے ہوں تو اس بناپر تقسیم کا حکم کیا ہوگا؟ اور کیا دیگر ورثاء کے محروم ہونے کی وجہ سے صرف بیوی کیلئے پنشن کی نامزدگی کرنے والا گنہگار تو نہیں ہوگا؟ اور کیا اس نامزدگی میں دیگر ورثاء کی رعایت رکھنا ضروری ہوگا؟
پینشن کی رقم توحکومت کی طرف سےتبرع اوراحسان ہےمیراث اورترکہ نہیں البتہ گریجویٹی فنڈکےبارےمیں کمپنیوں اوراداروں کےقوانین مختلف ہوتےہیں بعض کمپنیوں کےقانون کےمطابق ملازم دوران ملازمت اسکامستحق بن جاتاہےاوربعض کمپنیوں کےقوانین کےمطابق ملازم اس کامستحق نہیں ہوتا، اگرملازم دوران ملازمت اس رقم کامستحق بن جائے تویہ رقم حکومت کےذمےقرض ہونےکی وجہ سےترکہ کاحصہ شمار ہوگی ،اوراگرملازم اس رقم کا حقدارنہ بناہوتوپینشن کی طرح یہ رقم بھی ملازم کےورثاءکیلئےحکومت کی طرف سےتبرع اور احسان شمارہوگی اورترکہ کاحصہ نہیں بنےگی ،گریجویٹی جب ادارے کی طرف سےتبرع اوراحسان ہواسیطرح پینشن یہ ترکہ کاحصہ نہیں اس لیےاسمیں وصیت کےاحکام بھی جاری نہیں ہوتےہیں۔
کمافی الدر:يبدأ من تركة الميت الخالية عن تعلق الغير بعينها كالرهن والعبد والجاني اھـ
وفی الرد:قوله ( الخالية الخ ) صفة كاشفة لأن التركة في الاصطلاح ما تركه الميت من الأموال صافيا عن تعلق حق الغير بعين من الأموال كما في شروح السراجية۔اھـ (ج6ص759)۔
وفی الدرتحت قولہ(إلا بإجازة ورثته) لقوله عليه الصلاة والسلام لا وصية لوارث إلا أن يجيزها الورثة يعني عند وجود وارث آخر كما يفيده آخر الحديث۔اھـ(ج6ص656)۔
وفی الھدایۃ:قال: "ولا تجوز لوارثه" لقوله عليه الصلاة والسلام: "إن الله تعالى أعطى كل ذي حق حقه، ألا لا وصية لوارث" ولأنه يتأذى البعض بإيثار البعض ففي تجويزه قطيعة الرحم،قال: "إلا أن تجيزها الورثة" ويروى هذا الاستثناء فيما رويناه، ولأن الامتناع لحقهم فتجوز بإجازتهم؛ ولو أجاز بعض ورد بعض تجوز على المجيز بقدر حصته لولايته عليه وبطل في حق الراد۔اھ(ج4ص657)واللہ اعلم بالصواب۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2