ایک عیسائی خاتون (جو اسلام قبول کر چکی ہے) اپنے خاوند اور اور بچوں کے ساتھ رہ سکتی ہے ؟ اگر شوہر سے کسی قسم کا تعلق نہ رکھے اور دونوں الگ الگ گھروں میں رہے۔
سائل نے یہ نہیں لکھا کہ مذکور خاتون نے اپنا قضیہ عدالت میں پیش کیا یا نہیں اور عدالت نے اس کے شوہر پر اسلام پیش کی یا نہیں؟ لہٰذا مذکور خاتون کو چاہیے کہ اپنا یہ مقدمہ کسی مسلمان جج کے پاس لے جائے، جس پر عدالت کے جج اس کے خاوند کو بلا کر اسلام پیش کرے، اسلام قبول کر لیا، تو یہ حسب سابق میاں بیوی کی طرح زندگی گزاریں گے ورنہ قاضی (جج) ان کے درمیان تفریق کر دے، اور یہ تفریق طلاق بائن شمار ہو گی ، اس کے بعد عدت گزار کر مذکور خاتون کسی بھی مسلمان شخص سے نکاح کرسکتی ہے۔ تاہم اگر فی الحال کسی دوسری جگہ نکاح کرنا مقصود نہ ہو اور ایک ساتھ رہنے میں فتنہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ بھی نہ ہو، تو سابق شوہر کی اجازت اور پردہ شرعی کے اہتمام کے ساتھ اس گھر میں شوہر سے علیحدہ رہائش بھی اختیار کر سکتی ہے، لیکن مذکور خاتون کو چاہیے کہ عدالتی فیصلے اور عدت کے بعد جلد از جلد کسی مسلمان شخص سے نکاح کرنے کا انتظام کرے۔
كما في الفتاوى الهندية: وإذا أسلم أحد الزوجين في دار الحرب ولم يكونا من أهل الكتاب أو كانا والمرأة هي التي أسلمت فإنه يتوقف انقطاع النكاح بينهما على مضي ثلاث حيض سواء دخل بها أو لم يدخل بها كذا في الكافي اھ (1/ 338)
و في الهداية شرح البداية: وإذا أسلمت المرأة وزوجها كافر عرض القاضي عليه الإسلام فإن أسلم فهي امرأته وإن أبى فرق بينهما وكان ذلك طلاقا عند أبي حنيفة ومحمد رحمهما الله اھ (1/ 220)
و في اللباب في شرح الكتاب: (وإذا أسلمت المرأة وزوجها كافر) وهو يعقل الإسلام (عرض عليه القاضي الإسلام؛ فإن أسلم فهي امرأته) ؛ لعدم المنافي (وإن أبى عن الإسلام فرق) القاضي (بينهما) ؛ لعدم جواز بقاء المسلمة تحت الكافر (وكان ذلك) التفريق (طلاقاً بائناً عند أبي حنيفة ومحمد، وقال أبو يوسف: هي فرقة من غير طلاق) والصحيح قولهما اھ (3/ 26)
و في الدر المختار: قال: ولهما أن يسكنا بعد الثلاث في بيت واحد إذا لم يلتقيا التقاء الأزواج، ولم يكن فيه خوف فتنة انتهى. وسئل شيخ الإسلام عن زوجين افترقا ولكل منهما ستون سنة وبينهما أولاد تتعذر عليهما مفارقتهم فيسكنان في بيتهم ولا يجتمعان في فراش ولا يلتقيان التقاء الأزواج هل لهما ذلك؟ قال: نعم، وأقره المصنف. (3/ 538)
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله: وسئل شيخ الإسلام) حيث أطلقوه ينصرف إلى بكر المشهور بخواهر زاده، وكأنه أراد بنقل هذا تخصيص ما نقله عن المجتبى بما إذا كانت السكنى معها لحاجة، كوجود أولاد يخشى ضياعهم لو سكنوا معه، أو معها، أو كونهما كبيرين لا يجد هو من يعوله ولا هي من يشتري لها، أو نحو ذلك والظاهر أن التقييد بكون سنهما ستين سنة وبوجود الأولاد مبني على كونه كان كذلك في حادثة السؤال كما أفاده ط. (3/ 538) واللہ اعلم بالصواب
شادی شدہ عورت اگر کسی کے ساتھ بھاگ کر چلی جائے تو اس کا نکاح ختم ہو جاتاہے؟نیز اس عورت کو ازخود قتل کیا جاسکتا ہے ؟
یونیکوڈ تفریق و تنسیخ 1